آئینہ پر ۲۰ بہترین شعر


info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے


آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے


صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا

آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے


ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

آئینے میں وہ دیکھ رہے تھے بہار حسن


آیا مرا خیال تو شرما کے رہ گئے

آئنہ دیکھ کے فرماتے ہیں


کس غضب کی ہے جوانی میری

آئنے سے نظر چراتے ہیں


جب سے اپنا جواب دیکھا ہے

بنایا توڑ کے آئینہ آئینہ خانہ


نہ دیکھی راہ جو خلوت سے انجمن کی طرف

چاہے سونے کے فریم میں جڑ دو


آئنہ جھوٹ بولتا ہی نہیں

دیکھئے گا سنبھل کر آئینہ


سامنا آج ہے مقابل کا

دیکھنا اچھا نہیں زانو پہ رکھ کر آئنہ


دونوں نازک ہیں نہ رکھیو آئنے پر آئنہ

دیکھو قلعی کھلے گی صاف اس کی


آئینہ ان کے منہ چڑھا ہے آج

ہم نے دیکھا ہے روبرو ان کے


آئینہ آئینہ نہیں ہوتا

ہم سب آئینہ در آئینہ در آئینہ ہیں


کیا خبر کون کہاں کس کی طرف دیکھتا ہے

اک بار جو ٹوٹے تو کبھی جڑ نہیں سکتا


آئینہ نہیں دل مگر آئینہ نما ہے

اترا کے آئینہ میں چڑھاتے تھے اپنا منہ


دیکھا مجھے تو جھینپ گئے منہ چھپا لیا

کوئی بھولا ہوا چہرہ نظر آئے شاید


آئینہ غور سے تو نے کبھی دیکھا ہی نہیں

مثل آئینہ ہے اس رشک قمر کا پہلو


صاف ادھر سے نظر آتا ہے ادھر کا پہلو

مشکل بہت پڑے گی برابر کی چوٹ ہے


آئینہ دیکھئے گا ذرا دیکھ بھال کے

نہ دیکھنا کبھی آئینہ بھول کر دیکھو


تمہارے حسن کا پیدا جواب کر دے گا

پہلے تو میری یاد سے آئی حیا انہیں


پھر آئنے میں چوم لیا اپنے آپ کو


آئینے کو موضوع بنانے والی یہ شاعری پہلے ہی مرحلے میں آپ کو حیران کر دے گی ۔ آپ دیکھیں گے کہ صرف چہرہ دیکھنے کے لئے استعمال کیا جانے والا آئینہ شاعری میں آکر معنی کتنی وسیع اور رنگا رنگ دنیا تک پہنچنے کا ذریعہ بن گیا اور محبوب سے جڑے ہوئے موضوعات کے بیان میں اس کی علامتی حیثیت کتنی اہم ہوگئی ہے ۔یقیناً آپ آج آئینہ کے سامنے نہیں بلکہ اس شاعری کے سامنے حیران ہوں گے جو آئینہ کو موضوع بناتی ہے ۔

comments powered by Disqus