بوسے پر ۲۰ بہترین اشعار


info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے


بدن کا سارا لہو کھنچ کے آ گیا رخ پر


وہ ایک بوسہ ہمیں دے کے سرخ رو ہے بہت

بے گنتی بوسے لیں گے رخ دل پسند کے


عاشق ترے پڑھے نہیں علم حساب کو

بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ


جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے

بوسہ ہونٹوں کا مل گیا کس کو


دل میں کچھ آج درد میٹھا ہے

بوسہ جو رخ کا دیتے نہیں لب کا دیجئے


یہ ہے مثل کہ پھول نہیں پنکھڑی سہی

بوسہ جو طلب میں نے کیا ہنس کے وہ بولے


یہ حسن کی دولت ہے لٹائی نہیں جاتی

بوسہ تو اس لب شیریں سے کہاں ملتا ہے


گالیاں بھی ملیں ہم کو تو ملیں تھوڑی سی

بوسۂ رخسار پر تکرار رہنے دیجیے


لیجیے یا دیجیے انکار رہنے دیجیے

بوسے اپنے عارض گلفام کے


لا مجھے دے دے ترے کس کام کے

بجھے لبوں پہ ہے بوسوں کی راکھ بکھری ہوئی


میں اس بہار میں یہ راکھ بھی اڑا دوں گا

دکھا کے جنبش لب ہی تمام کر ہم کو


نہ دے جو بوسہ تو منہ سے کہیں جواب تو دے

ایک بوسہ ہونٹ پر پھیلا تبسم بن گیا


جو حرارت تھی مری اس کے بدن میں آ گئی

ایک بوسے کے بھی نصیب نہ ہوں


ہونٹھ اتنے بھی اب غریب نہ ہوں

ایک بوسے کے طلب گار ہیں ہم


اور مانگیں تو گنہ گار ہیں ہم

ہم کو گالی کے لیے بھی لب ہلا سکتے نہیں


غیر کو بوسہ دیا تو منہ سے دکھلا کر دیا

جس لب کے غیر بوسے لیں اس لب سے شیفتہؔ


کمبخت گالیاں بھی نہیں میرے واسطے

کیا قیامت ہے کہ عارض ان کے نیلے پڑ گئے


ہم نے تو بوسہ لیا تھا خواب میں تصویر کا

لجا کر شرم کھا کر مسکرا کر


دیا بوسہ مگر منہ کو بنا کر

لے لو بوسہ اپنا واپس کس لیے تکرار کی


کیا کوئی جاگیر ہم نے چھین لی سرکار کی

میں آ رہا ہوں ابھی چوم کر بدن اس کا


سنا تھا آگ پہ بوسہ رقم نہیں ہوتا


بوسہ پر شاعری عاشق کی بوسے کی طلب کی کیفیتوں کا بیانیہ ہے ، ساتھ ہی اس میں معشوق کے انکار کی مزے دار صورتیں بھی شامل ہو جاتی ہیں ۔ یہ طلب اور انکار کا ایک جھگڑا ہے جسے شاعروں کے تخیل نے بےحد رنگین اور دلچسپ بنادیا ہے ۔ اس مضمون میں شوخی ، مزاح ، حسرت اور غصے کی ملی جلی کیفیتوں نے ایک اور ہی فضا پیدا کی ہے ۔ ہمارا یہ چھوٹا سا انتخاب پڑھئے اور ان کیفیتوں کو محسوس کیجئے۔

comments powered by Disqus