منیر نیازی

  • 1923-2006

پاکستان کے ممتاز ترین جدید شاعروں میں شامل۔ فلموں کے لئے گیت بھی لکھے

info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے

عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیرؔ اپنی


جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا

آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے


ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے

اب کون منتظر ہے ہمارے لیے وہاں


شام آ گئی ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا

اپنی ہی تیغ ادا سے آپ گھائل ہو گیا


چاند نے پانی میں دیکھا اور پاگل ہو گیا

غیروں سے مل کے ہی سہی بے باک تو ہوا


بارے وہ شوخ پہلے سے چالاک تو ہوا

غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں


تو نے مجھ کو کھو دیا میں نے تجھے کھویا نہیں

گھٹا دیکھ کر خوش ہوئیں لڑکیاں


چھتوں پر کھلے پھول برسات کے

اک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو


میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

کل میں نے اس کو دیکھا تو دیکھا نہیں گیا


مجھ سے بچھڑ کے وہ بھی بہت غم سے چور تھا

خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھے


سوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے

خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لیے


ان میں جا کر مگر رہا نہ کرو

خواہشیں ہیں گھر سے باہر دور جانے کی بہت


شوق لیکن دل میں واپس لوٹ کر آنے کا تھا

کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے


سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے

میں اس کو دیکھ کے چپ تھا اسی کی شادی میں


مزا تو سارا اسی رسم کے نباہ میں تھا

محبت اب نہیں ہوگی یہ کچھ دن بعد میں ہوگی


گزر جائیں گے جب یہ دن یہ ان کی یاد میں ہوگی

مدت کے بعد آج اسے دیکھ کر منیرؔ


اک بار دل تو دھڑکا مگر پھر سنبھل گیا

شہر کا تبدیل ہونا شاد رہنا اور اداس


رونقیں جتنی یہاں ہیں عورتوں کے دم سے ہیں

تھکے لوگوں کو مجبوری میں چلتے دیکھ لیتا ہوں


میں بس کی کھڑکیوں سے یہ تماشے دیکھ لیتا ہوں

وہ جس کو میں سمجھتا رہا کامیاب دن


وہ دن تھا میری عمر کا سب سے خراب دن

زمیں کے گرد بھی پانی زمیں کی تہہ میں بھی


یہ شہر جم کے کھڑا ہے جو تیرتا ہی نہ ہو

comments powered by Disqus