info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے

ایسے رشتے کا بھرم رکھنا کوئی کھیل نہیں


تیرا ہونا بھی نہیں اور ترا کہلانا بھی

بہت سے خواب دیکھو گے تو آنکھیں


تمہارا ساتھ دینا چھوڑ دیں گی

بھرے مکاں کا بھی اپنا نشہ ہے کیا جانے


شراب خانے میں راتیں گزارنے والا

ہمارے گھر کا پتا پوچھنے سے کیا حاصل


اداسیوں کی کوئی شہریت نہیں ہوتی

جہاں رہے گا وہیں روشنی لٹائے گا


کسی چراغ کا اپنا مکاں نہیں ہوتا

جو مجھ میں تجھ میں چلا آ رہا ہے برسوں سے


کہیں حیات اسی فاصلے کا نام نہ ہو

کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتا


آنسو کی طرح آنکھ تک آ بھی نہیں سکتا

میں جن دنوں ترے بارے میں سوچتا ہوں بہت


انہیں دنوں تو یہ دنیا سمجھ میں آتی ہے

میں نے چاہا ہے تجھے عام سے انساں کی طرح


تو مرا خواب نہیں ہے جو بکھر جائے گا

میں اس کو آنسوؤں سے لکھ رہا ہوں


کہ میرے بعد کوئی پڑھ نہ پائے

محبت میں بچھڑنے کا ہنر سب کو نہیں آتا


کسی کو چھوڑنا ہو تو ملاقاتیں بڑی کرنا

مسلسل حادثوں سے بس مجھے اتنی شکایت ہے


کہ یہ آنسو بہانے کی بھی تو مہلت نہیں دیتے

رات تو وقت کی پابند ہے ڈھل جائے گی


دیکھنا یہ ہے چراغوں کا سفر کتنا ہے

شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیں


اتنے سمجھوتوں پہ جیتے ہیں کہ مر جاتے ہیں

تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں


سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے

ترے خیال کے ہاتھوں کچھ ایسا بکھرا ہوں


کہ جیسے بچہ کتابیں ادھر ادھر کر دے

تجھے پانے کی کوشش میں کچھ اتنا کھو چکا ہوں میں


کہ تو مل بھی اگر جائے تو اب ملنے کا غم ہوگا

ویسے تو اک آنسو ہی بہا کر مجھے لے جائے


ایسے کوئی طوفان ہلا بھی نہیں سکتا

وہ جھوٹ بول رہا تھا بڑے سلیقے سے


میں اعتبار نہ کرتا تو اور کیا کرتا

یہ کس مقام پہ لائی ہے میری تنہائی


کہ مجھ سے آج کوئی بد گماں نہیں ہوتا

comments powered by Disqus