ادبی تنقید کی دنیا میں اکثر ایک اصطلاح بڑے تواتر کے ساتھ استعمال ہوتی ہے: 'صاحبِ ذوق قاری'۔ جب بھی کوئی نظم یا غزل کسی نقاد یا قاری کی سمجھ میں نہیں آتی، تو وہ فوراً یہ فتویٰ صادر کر دیتا ہے کہ یہ کلام کسی بھی صاحبِ ذوق قاری کی فہم سے بالاتر ہے، لہٰذا یہ مہمل یا خراب ہے۔ شمس الرحمن فاروقی اس رویے کا نہایت باریک بینی سے تجزیہ کرتے ہوئے یہ ثابت کرتے ہیں کہ عینی حیثیت سے کسی ایسے 'صاحبِ ذوق قاری' کا وجود سرے سے ممکن ہی نہیں ہے جس کی شعرفہمی پر ہم سب کو اعتماد ہو۔
فاروقی صاحب کا استدلال یہ ہے کہ مشکل، مبہم یا ناپسندیدہ شاعری کو مطعون کرتے وقت ہم جس سمجھ دار اور پڑھے لکھے قاری کے تصور کا سہارا لیتے ہیں، وہ دراصل ایک فرضی اور افسانوی پیکر ہے۔ یہ شکایت کہ فلاں نظم خراب ہے کیونکہ وہ صاحبِ ذوق قاری کی گرفت میں نہیں آتی، سراسر غیر منطقی ہے۔ درحقیقت، ہر شخص صاحبِ ذوق قاری کا ایک انفرادی تصور رکھتا ہے، اور یہ تصور بعینہٖ اسی شخص کی اپنی صلاحیت، شعرفہمی اور علمی سطح کا عکس ہوتا ہے۔
جب لوگ صاحبِ ذوق قاری کے حوالے سے کسی فن پارے کی تعریف یا تنقیص کرتے ہیں، تو وہ دراصل اپنا اور صرف اپنا حوالہ دے رہے ہوتے ہیں۔ وہ اپنی نارسائیوں اور کم فہمیوں کو جواز (Rationalize) فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چونکہ وہ یہ تسلیم نہیں کرنا چاہتے کہ فلاں نظم ان کی سمجھ میں نہیں آ رہی اور اس میں ان کا اپنا قصور ہو سکتا ہے، اس لیے وہ فوراً ایک فرضی ذوق کا تصور گڑھ لیتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اچھے برے شعر کی تمیز ممکن نہیں یا شعرفہمی کی کوششیں بے کار ہیں۔ فاروقی صاحب واضح کرتے ہیں کہ شاعری کو پرکھنے کے لیے تنقید کے معروضی اصولوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی شعر کے خراب ہونے کی دلیل یہ نہیں ہو سکتی کہ کوئی نام نہاد صاحبِ ذوق اسے خراب کہتا ہے، بلکہ دلیل یہ ہونی چاہیے کہ وہ تنقید کے مسلمہ معیار اور اصول کی روشنی میں خراب ٹھہرتا ہے۔ لہٰذا، صاحبِ ذوق قاری کا تصور ایک غیر تنقیدی اور ذاتی حقیقت ہے، جس کی کوئی معروضی (Objective) حیثیت نہیں۔
