آج کے منتخب ۵ شعر

نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

علامہ اقبال

میں جن گلیوں میں پیہم بر سر گردش رہا ہوں

میں ان گلیوں میں اتنا خار پہلے کب ہوا تھا

تحسین فراقی

یہ اس کے پیار کی باتیں فقط قصے پرانے ہیں

بھلا کچے گھڑے پر کون دریا پار کرتا ہے

حسن رضوی

افسوس جن کے دم سے ہر اک سو ہیں نفرتیں

ہم نے تعلقات انہیں سے بڑھا لیے

ماجد دیوبندی
  • شیئر کیجیے

مانا کہ تو ذہین بھی ہے خوب رو بھی ہے

تجھ سا نہ میں ہوا تو بھلا کیا برا ہوا

محمد علوی
آج کا لفظ

نمود

  • numuud
  • नुमूद

معنی

show/display/appearance

کینوس پر ہے یہ کس کا پیکر حرف و صدا

اک نمود آرزو جو بے نشاں ہے اور بس

لغت

Quiz A collection of interesting questions related to Urdu poetry, prose and literary history. Play Rekhta Quiz and check your knowledge about Urdu!

The song, "Raat hai milan ki saathi mere aare", from the film Mela was written by?
Start Today’s Quiz
app bg1 app bg2

Rekhta App : World’s largest collection of Urdu poetry

کیا آپ کو معلوم ہے؟

غالب کے شعر، ان کے خطوط، ان کی بذلہ سنجی کا تو بہت ذکر ہوتا ہے، لیکن کیا آپ نے غالب کی پنسل کے بارے میں سنا ہے؟ 
1969 میں "ادارۂ یادگار غالب" کراچی نے غالب کی صد سالہ برسی کی تقریبات کے موقع پر کراچی میں ایک لائیبریری بنانے کا ارادہ کیا اور فنڈ ریزنگ کے لیے ایک پینسل جاری کی تھی، جس پر غالب  کی تصویر بھی تھی۔ ان پنسلوں کی قیمت پانچ روپے مقرر کی گئی تھی، مگر غالب کے چاہنے والوں نے اس وقت یہ پینسل پانچ پانچ ہزار روپے میں خریدیں۔ ساری پنسلیں بک گئیں اور اب کہیں  دستیاب نہیں ہیں، لیکن دہلی میں غالب اکادمی کے مییوزیم میں دو پنسلیں اب بھی محفوظ ہیں۔ دہلی میں بستی نظام الدین میں غالب اکادمی کی عمارت کے قریب ہی غالب کا مزاربھی ہے۔ 
اکادمی۔22فروری 1969 میں قائم ہوئ تھی۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

"ہم زلف" کسے کہتے ہیں؟ یہ ایک رشتہ ہے جس کے لئے عام طور پر لفظ "ساڑھو" استعمال ہوتا ہے۔ یعنی ایک بہن کا شوہردوسری بہن کے شوہر کا "ہم زلف" ہوا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ کچھ ایسا ہی شاعرانہ سا نام ایک اور رشتے کا بھی ہے۔ "ساس" کو "خوش دامن" کہا جاتا ہے۔
شوہر کے لئے ایک لفظ "خٙصم" بھی عام بول چال میں آتا ہے جو کچھ زیادہ مہذب نہیں سمجھا جاتا اور اکثر اس کا تلفظ  "خٙصٙم" کیا جاتا ہے اور پنچابی میں یہ "کھسم" بولا جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ عربی میں خصم (ص پر جزم) کا مطلب ہے دُشمن، جس سے نکلا ہوا لفظ خُصُومت (دشمنی) اُردو میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اور اسی معنی میں اردو اشعار میں بھی مل جاتا ہے ۔ جان کے دشمن کے لئے "خصمِ جاں" مصحفی کے اس شعر میں آیا ہے۔ 

ہوا خصمِ جاں مصحفیؔ وہ تو تیرا
نہ انساں کو انسان سے بیر ہووے

کیا آپ کو معلوم ہے؟

جون

جون ایلیا کو اپنے آبائ وطن امروہہ سے عشق تھا۔ وہ نوجوانی ہی میں ہی پاکستان چلے گئے تھے۔ 1972 میں جب وہ پہلی بار ہندوستان آئے تو امروہہ کے چھوٹے سے ریلوے اسٹیشن پر رشتے داروں، دوستوں اور پرستاروں کا ایک مجمع استقبال کے لئے موجود تھا۔ جون نے شدت جذبات سے ریلوے اسٹیشن پر ہی امروہہ کی زمین کو سجدہ کیا۔ اپنے برسوں سے بچھڑے ہوئے گھر پہنچ کر درودیوار سے لپٹ لپٹ کر زار و قطار روئے. سارے رشتے داروں، دوستوں اور بزرگوں سے فرداً فرداً ملے۔ جو بچے ان کے پاکستان جا نے کے بعد پیدا ہوئے تھے ان کو ان کے والدین اور نانی دادی کی شباہت سے پہچان گئے۔ امروہہ کی بان ندی جس کے کنارے وہ لڑکپن میں دوستوں کے ساتھ ٹہلنے جاتے تھے  وہاں بھی گئے جو ان کی شاعری میں لہریں لیتی نظر آتی ہے۔
اس سمندر پہ تشنہ کام ہوں میں
بان تم اب بھی بہہ رہی ہو کیا
وہ  بے تابانہ اپنے جد امجد شاہ الدین شاہ ولایت کے مزار پر گئے جو ان کے گھر کے پاس ہی ہے۔ جس کا ذکر ان کی شاعری میں کئ جگہ ملتا ہے۔ اس مزار پر ایسے بچھو پائے جاتے ہیں جو کاٹتے نہیں۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

دلیپ کمار اردو ادب کا اعلی ذوق رکھتے تھے ۔ وہ بہت نفیس اردو اور انگریزی بولتے اور لکھتے تھے، فارسی بھی جانتے تھے۔ رومی، حافظ، اقبال کے بہت سے اشعار وہ دوران گفتگو پڑھا کرتے تھے ۔ صرف اشعار ہی نہیں انھیں اردو افسانوں کے جملے تک یاد تھے وہ ادب ِلطیف، نقوش، فنون، ساقی اور ادبی دنیا جیسے ادبی رسائل پڑھا کرتے تھے ۔ ان کی کافی بڑی ذاتی لائبریری تھی جہاں وہ روز رات کو مطالعہ کیا کرتے تھے ۔
   مشاعروں میں بہت ذوق و شوق سے شرکت کرتے تھے اور مہمان خصوصی کے طور پر جو تقریریں کرتے تھے وہ بھی کسی ادب پارے سے کم نہیں ہوتی تھیں ۔ 1976 میں حیدر آباد کے ایک مشاعرے میں انھوں نے اخترالایمان کی ایک نظم پڑھی تھی جو انھیں پوری زبانی یاد تھی۔ اسکرپٹ رائٹر بھی تھے، 1964 میں بنی فلم "لیڈر"  کا اسکرپٹ انھوں نے فلمایہ اسٹوڈیو میں ایک پرانے گھنے درخت کے نیچے بیٹھ  کر لکھا تھا۔ اس فلم میں ووٹوں کی سیاست کو پیش کیا گیا تھا۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

جوش ملیح ابادی (1982۔ 1898) شاعر شباب اور شاعر انقلاب کہلاتے تھے ۔ کچھ عرصے وہ پونا اور بمبئی میں فلمی دنیا سے بھی منسلک رہے۔ فلم ’’من کی جیت‘‘ اور کچھ اور فلموں کے گانے بھی لکھے، لیکن موسیقاوروں کی بنائی ہوئ دھنوں پر انھیں گیت لکھنا گوارا نہیں تھا، اس لئے بمبئ کی  فلمی دنیا انھیں راس نہ آئی۔
جوش اپنی حاضر جوابی، شوخی اور بے باکی کے لئے بھی  مشہور تھے۔ بہت سے لطیفے ان سے منسوب ہیں۔
 بمبئی میں جوشؔ صاحب ایک ایسے مکان میں ٹھہرے تھے، جس میں اوپر کی منزل پر ایک اداکارہ رہتی تھیں، مکان کچھ اس طرح بنا ہوا تھا کہ جوش کو ان کا دیدار نہیں ہوسکتا تھا، لہذا انہوں نے یہ رباعی لکھی

میرے کمرے کی چھت پہ ہے اس بت کا مکان
جلوے کا نہیں ہے پھر بھی کوئی امکان
گویا اے جوشؔ میں ہوں ایسا مزدور
جو بھوک میں ہو سر پہ اٹھائے ہوئے خوان

آج کی پیش کش

مشاعروں میں بے انتہا مقبول پاکستانی شاعرہ

زندگی بھر ایک ہی کار ہنر کرتے رہے

اک گھروندا ریت کا تھا جس کو گھر کرتے رہے

پوری غزل دیکھیں

ریختہ بلاگ

پسندیدہ ویڈیو
This video is playing from YouTube
video

ابن انشا

A Poetic Tribute To Ibn-e-Insha

ویڈیو شیئر کیجیے

ای-کتابیں

بزم ادب

نامعلوم مصنف 

1938

کبیر

نامعلوم مصنف 

1978 سوانح حیات

سودائے خودی

شمس دکنی 

1995

پطرس کے مضامین

پطرس بخاری 

2011 نثر

اپنے دکھ مجھے دے دو

راجندر سنگھ بیدی 

1997 افسانوی ادب

مزید ای- کتابیں