آج کے منتخب ۵ شعر

واقف ہیں خوب آپ کے طرز جفا سے ہم

اظہار التفات کی زحمت نہ کیجیے

حسرتؔ موہانی
  • شیئر کیجیے

راہ دور عشق میں روتا ہے کیا

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

میر تقی میر

بہکی بہکی نگۂ ناز خدا خیر کرے

حسن میں عشق کے انداز خدا خیر کرے

منظر لکھنوی
  • شیئر کیجیے

الفت نے تری ہم کو تو رکھا نہ کہیں کا

دریا کا نہ جنگل کا سما کا نہ زمیں کا

واجد علی شاہ اختر

ہارنے میں اک انا کی بات تھی

جیت جانے میں خسارا اور ہے

پروین شاکر
آج کا لفظ

رہزن

  • rahzan
  • रहज़न

معنی

robber/highwayman

آنکھ رہزن نہیں تو پھر کیا ہے

لوٹ لیتی ہے قافلہ دل کا

لغت

Quiz A collection of interesting questions related to Urdu poetry, prose and literary history. Play Rekhta Quiz and check your knowledge about Urdu!

In Fana Bulandshahri's famous couplet, "mere rashk-e-qamar tū ne pahlī nazar jab nazar se milā.ī mazā aa gayā, barq sī gir ga.ī kaam hī kar ga.ī aag aisī lagā.ī mazā aa gayā". What is the meaning of the word "Barq"?
Start Today’s Quiz

Rekhta App : World’s largest collection of Urdu poetry

کیا آپ کو معلوم ہے؟

دلاور


اردو کے صف اول کے طنزیہ اور مزاحیہ شاعر دلاور فگار (1929.1998) کی مزاحیہ شاعری کا راز سب سے پہلے بدایوں کے ایک مشاعرے میں شکیل بدایونی نے کھولا تھا، جس میں دلیپ کمار بھی موجود تھے ۔  شکیل جو مشاعرے کی نظامت کررہے تھے انھوں نے ایک شاعر سے اُگلوا ہی لیا کہ جو مزاحیہ نظم وہ پڑھ رہے ہیں وہ دلاور فگار کی لکھی ہوئ۔ دراصل اس زمانے میں دلاور فگار اپنے دوستوں کو مزاحیہ نظمیں لکھ کر دے دیتے تھے اورخود اپنی سنجیدہ  غزلیں مشاعروں میں ترنم سے سناتے تھے جو بہت اچھا بھی نہیں تھا۔ اس وقت ان کا تخلص شباب ہوا کرتا تھا ۔ اس مشاعرے سے وہ مزاحیہ شاعر کے طور پر  متعارف ہوئے اور پھر بے حد مشہور ہوئےاور فگار تخلص اپنا لیا۔ 

کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ ماہر عروض بھی تھے اور انھوں نے انگریزی کی 100 منتخب نظموں کا بہت اعلی اردو ترجمہ بھی  کیا تھا جو  "خوشبو کاسفر" کے عنوان سے کتابی شکل میں شائع ہوا تھا۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

نوبت بجنا تو آپ نے سنا ہوگا۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ 
امیروں اور بادشاہوں کی ڈیوڑھی پر مقررہ وقت یا کسی خاص وقت پر بجائے جانے والے باجوں کو نوبت کہا جاتا تھا۔ جس میں  نقارے، طبل اور نفیری شامل ہوتے تھے نفیری ایک بانسری جیسا موسیقی کا آلہ ہے ۔ جب یہ تینوں ساتھ بجتے تھے تب اسے نوبت بجنا کہتے تھے ۔ وہ جگہ جہاں نوبت بجتی تھی اسے نوبت خانہ کہتے تھے ۔ 

اس کے علاوہ لفظ نوبت بری حالت، درگت یا برے حال کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ نوبت آنا ایک محاورہ ہے، مثلاً  "وہ خاندانی رئیس تھے لیکن اب یہ نوبت آ گئی کہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑتا ہے"
اسی محاورے کو شعر میں کچھ یوں برتا گیا ہے ۔

میں آئنہ بنوں گا تو پتھر اٹھائے گا
اک دن کھلی سڑک پہ یہ نوبت بھی آئے گی

کیا آپ کو معلوم ہے؟

اختر

اختر الایمان اردو نظم کے ممتاز شاعر اور بہت مشہور و کامیاب فلمی اسکرپٹ رائٹر اور مکالمہ نگار تھے۔ اپنی تحریر کے حوالے سے وہ بہت سخت گیر تھے۔ ایک بار وہ کسی فلم کے مکالمے لکھ رہے تھے، جس کے ہیرو دلیپ کمار تھے۔ انھوں نے کسی مکالمے میں تبدیلی کرنے کے لئے اخترالایمان کا لکھا ہوا مکالمہ کاٹ کر اپنے قلم سے کچھ لکھنا چاہا۔ اختر الایمان نے انہیں سختی سے روک دیا کہ وہ ان کی تحریر کو نہ کاٹیں، اپنا اعتراض زبانی بتائیں، اگر بدلنا ہو گا تو وہ خود اپنے قلم سے بدلیں گے۔
انھوں نے فلموں کے لئے کبھی نغمے نہیں لکھے، لیکن ان کے لکھے ہوئے کچھ مکالمے اتنے مشہور ہوئے کہ لوگوں کو یاد ہو گئے تھے۔ فلم "قانون" جس میں کوئ گانا نہیں تھا ان کے مکالموں  کی وجہ سے بے حد کامیاب رہی تھی۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ زمانہء طالب علمی میں ایک بہترین مقرر تھے اور ہمیشہ مباحثوں میں اول انعام حاصل کرتے تھے ۔ ایک بارانھیں تیسرا انعام ملا تو انھوں نے یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ فیصلے میں غلطی ہوگئ ہے یہ انعام کسی ضرورت مند کو دے دیا جائے۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

لفظ 'استاد' فارسی سے اردو میں داخل ہوا۔ اس کا سفر زرتشت مذہب کی کتاب 'اوستا' سے شروع ہوا، جو بہت قدیم ایرانی زبان میں تھی اور اس کے سمجھنے والے بھی بہت کم تھے۔ ''اوستا'' کے جاننے والے کو ''اَوِستا وَید'' کہا جاتا تھا۔ ''وَید'' کا لفظ آج بھی 'حکیم' یا 'دانا' کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
وقت کے ساتھ  یہ لفظ پہلے ''اوِستا وِد'' ہوا، پھر ''اُستاد'' ہو گیا۔ شروع میں یہ لفظ مذہبی کتابوں کے سمجھنے سمجھانے والے کے لیے ہی استعمال ہوتا تھا۔ بعد میں یہ ہر طرح کی تعلیم دینے والوں لئے عام ہو گیا اور پھر ہر فن کے ماہر کو بھی استاد کہا جانے لگا۔ یہ لفظ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی میں بڑے فنکاروں کے نام کا حصہ ہی بن گیا۔ اب عام بول چال میں یہ لفظ نت نئے ڈھنگ سے ملتا ہے۔ چالاکی کرنا 'استادی دکھانا' بن گیا، بے تکلفی سے یار دوست بھی ایک دوسرے کو استاد کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ ہندوستانی فلموں میں بھی طرح طرح کے اچھے برے کردار 'استاد ' کے روپ میں  نظر آتے ہیں اور 'استادوں کے استاد'، 'دو استاد' اور 'استادی استاد کی ' جیسے ناموں والی فلمیں بھی مل جاتی ہیں۔ 
شاگرد ہیں ہم میر سے استاد کے راسخ
استادوں کا استاد ہے استاد ہمارا

کیا آپ کو معلوم ہے؟

میراجی

میرا جی (ثنا اللہ ڈار  1912.1949 )کا نام آتے ہی ان کی تصویر سامنے آ جاتی ہے۔ جٹا دھاری زلفیں، کانوں میں بڑے بڑے بالے نوکیلی گھنی مونچھیں، اور دور کہیں گھورتی ہوئی آنکھیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ تصویر بھی اصل میرا جی کی نہیں ہے بلکہ انھوں نے ایک فلم میں سادھو کا کردار ادا کیا تھا، اسی کی تصویر ہے ۔ یہ سچ ہے کہ انھوں نے میراسین نامی لڑکی  کے عشق میں اپنا نام میراجی رکھ لیا تھا، کچھ ایسا ہی عجیب سا حلیہ بنا لیا تھا، ہاتھ میں لوہے کے گولے لئے رہتے تھے۔
 لیکن یہ ملنگ سے شاعر کوئی نفسیاتی مریض نہیں تھے، 37 برس کی عمر میں وہ ایک نسل کے برابر کام چھوڑ گئے، حالانکہ انھوں نے ہائی اسکول تک بھی پاس نہیں کیا تھا۔ ان کی کلیات میں 223 نظمیں، 136 گیت،17 غزلیں،22 منظوم تراجم  5ہزلیات اورمتفرقات شامل ہیں۔ انھوں نے ایک قدیم سنسکرت کتاب کا ترجمہ "نگار خانہ" کے نام سے کیا ہے ۔ انگریزی زبان اور ادب پر بھی ان کی گہری نظر تھی۔ ان کی "مشرق اور مغرب کے نغمے" نامی کتاب میں یونانی، فرانسیسی، جرمنی،انگریزی، امریکی، جاپانی، چینی، رومانی و روسی زبانوں کے اہم شاعروں پر مضمون اور ان کے منتخب کلام کے ترجمے شامل ہیں۔

آج کی پیش کش

اردو کے پہلے عظیم شاعر جنہیں ’ خدائے سخن ‘ کہا جاتا ہے

جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں

اس راہ میں وے جیسے انجان نکلتے ہیں

پوری غزل دیکھیں

ریختہ بلاگ

پسندیدہ ویڈیو
This video is playing from YouTube

بشیر بدر

Main Ghazal Ki Palkein Sanwaar Lun

ویڈیو شیئر کیجیے

ای-کتابیں

اقبال دلہن

بشیر الدین احمد دہلوی 

1908 اخلاقی کہانی

کلیات انور شعور

انور شعور 

2015 کلیات

مغل تہذیب

محبوب اللہ مجیب 

1965

اودھوت کا ترانہ

 

1958 نظم

شمارہ نمبر۔002

ڈاکٹر محمد حسن 

1970 عصری ادب

مزید ای- کتابیں