آج کے منتخب ۵ شعر

روئیں نہ ابھی اہل نظر حال پہ میرے

ہونا ہے ابھی مجھ کو خراب اور زیادہ

اسرار الحق مجاز
  • شیئر کیجیے

نہیں یہ آدمی کا کام واعظ

ہمارے بت تراشے ہیں خدا نے

بیان میرٹھی
  • شیئر کیجیے

زندگی جیسی توقع تھی نہیں کچھ کم ہے

ہر گھڑی ہوتا ہے احساس کہیں کچھ کم ہے

شہریار

کس تصور کے تحت ربط کی منزل میں رہا

کس وسیلے کے تأثر کا نگہبان تھا میں

ساحل احمد

بجز حق کے نہیں ہے غیر سے ہرگز توقع کچھ

مگر دنیا کے لوگوں میں مجھے ہے پیار سے مطلب

ماہ لقا چندا
آج کا لفظ

بَزْم

  • bazm
  • बज़्म

معنی

assembly

آپ اگر یوں ہی چراغوں کو جلاتے ہوئے آئیں

ہم بھی ہر شام نئی بزم سجاتے ہوئے آئیں

لغت

Quiz A collection of interesting questions related to Urdu poetry, prose and literary history. Play Rekhta Quiz and check your knowledge about Urdu!

Who amongst the following sang the famous song "Jane Kahan Gaye Woh Din" from the film 'Mera Naam Joker'?
Start Today’s Quiz

Rekhta App : World’s largest collection of Urdu poetry

کیا آپ کو معلوم ہے؟

کشور

کشور ناہید، معروف شاعرہ ادیبہ اور مترجم اپنے تانیثی خیالات کے لئے مشہور ہیں۔ کشور نے فرانسیسی مصنفہ سیمون ڈی بوار کی عورتوں پہ لکھی کتاب ”سیکنڈ سیکس“ کی اردو میں "عورت" کے عنوان سے  تلخیص کی اور اس میں اپنے سماج کی مثالیں بھی شامل کر دی تھیں۔ یہ کتاب بہت مقبول ہوئ ۔ ایک ماہ میں اس کتاب کی  پانچ ہزار کاپیاں پاکستان میں فروخت ہو گئیں ۔ یونیورسٹی کے  بہت سے طالب علموں نے بھی خریدیں۔ لیکن دوسری طرف اس کتاب کے بارے میں کشور ناہید پر باقاعدہ فحاشی لکھنے کے الزام میں  1997 میں مقدمہ دائر کیا گیا۔ کتاب بین banکردی گئ ۔ کشور نے اس کے بارے میں خود لکھا ہے کہ علاقے  کا ایس پی کشور کے دفتر میں آیا اورکہا:  

 "۔مجھے آپ کو آج گرفتار کرنے کا حکم ہے۔ لیکن مجھے اچھا نہیں لگے گا۔ آپ براہ مہربانی چلی جائیے"

کشور نہیں مانیں اس کے ساتھ  حوالات میں گئیں، اس دوران ان کے ایک دوست نے پیشگی ضمانت دے دی ۔ کتاب پر باقاعدہ مقدمہ چلا ۔ مشہور قانون داں اعجاز بٹالوی نے جو خود بھی شاعر اور ادیب تھے کشور کی طرف سے مقدمہ لڑا اورجیتا۔
کشور ناہید کی خود نوشت سوانح "بری عورت کی کتھا" ان کے تانیثی خیالات، جد وجہدِ زندگی، صاف گوئ اور ہمت کی دستاویز ہے ۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

ابن

" انشاء جی اٹھو اب  کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا" اردو کی مشہور ترین غزلوں میں شمار کی جاتی ہے۔ اس غزل کے خالق ابن انشاء  (1927۔1978) مشہور شاعر ، کالم نگار، مصنف ،مترجم، مزاح نگار تھے۔
 کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ شاید پہلے اردو شاعر تھے جنھوں نے پنچابی شاعری کی صنف "سی حرفی" کو نظم میں برتا تھا۔ 'سی حرفی' پنجابی شاعری کی مشہور صنف ہے جس میں حروفِ تہجی کے ہر حرف سے شروع کر کے چار مصرعوں کا قطعہ لکھا جاتا ہے۔ ان قطعات میں موضوع کی کوئی قید نہیں ہوتی۔

ابن انشاء نے اسے اپنی نظم "امن کا آخری دن" میں برتنے کی کوشش اس طرح کی ہے : 

پ 'وہ پلٹن ہے کہ اُڑ کر سرِ میداں پہنچے
 ' پ' وہ پیارے ہیں کہ میداں سے نہ واپس آئے
 ' ت ' وہ تمغہ ہے کہ برسوں کی ریاضت سے ملے
اور کسی لاش کی چھاتی پہ چمکتا رہ جائے

ابن انشا ء کا اصلی نام شیرمحمد خاں تھا۔ وہ عالمی ادب سے بھی گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ مشہور امریکی شاعر و مصنف ایڈگر ایلن پو  سے بہت متاثر تھے اور ان کو "گرو دیو" کہتے تھے۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

گلزار

نسلاً کشمیری پنڈت مگر دہلی کی جڑوں میں اپنا وجود دریافت کرنے والے آنند موہن زتشی گلزار دہلوی (2020-1926) کا پورا خاندان ہی اردو زبان کی خدمت کے لیے وقف تھا۔ گلزار دہلوی ہمارے مشترکہ کلچر، اردو زبان و ادب اور گنگا جمنی تہذیب کے سب سے بڑے نمایندہ تھے۔ حضرت نظام الدین اولیا کے مرید تھے اور ان کے مزار پر برابر حاضری دیتے۔ جب بھی گھر سے باہر نکلتے جواہر کٹ ٹوپی اور شیروانی زیب تن کر لیتے جس پر ایک تازہ گلاب بھی گندھا ہوتا۔ اپنی طویل عمر میں بے شمار مشاعروں کی زینت بنے اور ہر جگہ بے باک انداز میں اردو زبان کا علم بلند کیا۔ انھوں نے 1946 میں انجمن تعمیر اردو کی بنیاد ڈالی اور اس کے تحت ہزاروں شعری محفلیں برپا کیں۔ جگر مرادابادی، مولوی عبد الحق، جواہر لال نہرو، حسین احمد مدنی، ابوالکلام آزاد، علامہ نیاز فتحپوری، جوش ملیح آبادی جیسی عبقری شخصیات بھی گلزار دہلوی سے انسیت رکھتی تھیں۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

آنند

سن 1932 میں لکھنو میں ایک ''دریائ مشاعرہ" ہوا تھا۔ گرمی کا موسم تھا، مشہور شاعر آنند نرائن ملا نے ادبی انجمن "بہار ادب" کی طرف سے یہ مشاعرہ گومتی کے پانی پر ایک پنڈال بنا کر کروایا تھا۔ پانی کی سطح پر پل بنانے والے پیپوں یعنی "کنستروں" پر مشاعرے کا پنڈال بنایا گیا تھا۔ اور اس کو موٹے رسوں سے کنارے پر میخوں سے باندھ دیا گیا تھا۔ جب سب لوگ آ گئے تو یہ رسے کھول دئیے گئے ۔ یہ "مشاعرہ گاہ" ایک شاندار بجرا نظر آرہی تھی ۔ مشاعرے کا مصرع طرح تھا:  
دریا کی روانی ہے بہتا  ہوا پانی ہے 
آنند نرائن ملا (1901,1997 ) عاشق اردو تھے ۔ ان کا یہ جملہ کہ ''میں اپنا مذہب چھوڑ سکتا ہوں لیکن اردو کو نہیں چھوڑ سکتا'' بہت مشہور ہے۔  وہ کشمیری تھے، لیکن کئی پشتوں سے ان کا خاندان لکھنو میں بس گیا تھا۔ وہ ایک با کمال شاعر اور ملک کے ممتاز قانون داں تھے۔ الہ آباد ہائ کورٹ کے جج بھی رہے تھے ۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

سیماب

سیماب اکبرآبادی (1880_1951) مشہورشاعر اور معروف ماہنامہ "شاعر" کے بانی تھے، یہ ادبی رسالہ جو اب ان کے پوتے بمبئ سے نکالتے ہیں، جو اپنی اشاعت کے سو سال مکمل کرنے والا ہے ۔ سیماب کے سیکڑوں شاگرد تھے ۔ ایک شاگرد کا قصہ انھوں نے خود لکھا ہے: 

اجمیر میں کسی کے گھر پر ایک مشاعرہ میں ایک صاحب نے سیماب کی جیب سے ان کی غزل نکال لی،
اور کچھ دیر کے بعد ان کے سامنے مشاعرہ میں پڑھنی بھی شروع کر دی۔ لوگوں نے جن اشعار پر داد دی ان پر سیماب نے بھی داد  دی۔ سیماب نے اس  دوران پندرہ شعر اور کہہ لئے اور جب ان کا نمبر آیا تو  یہ تازہ غزل سنا دی۔ دوسرے روز وہی صاحب ان کے پاس آئے۔ اور کہا کہ میں نے آپ کا امتحان لیا تھا۔ آپ اس میں کامیاب ہو گئے، کوئ دوسرا شاعر ہوتا تو وہیں مچل جاتا کہ میری غزل مشاعرہ میں پڑھی جارہی ہے۔ اب میں آپ کا شاگرد ہوتا ہوں۔ سیماب نے جواب دیا "اس کا کوئ ثبوت نہیں تھا کہ وہ غزل آپ کی نہ تھی، میری تھی
   " بہر حال وہ صاحب ان کے شاگرد بن ہی گئے۔ 

کیا آپ جانتے ہیں۔
یہ مشہور شعر سیماب اکبر آبادی کا ہے 

عمر دراز مانگ کے لائی تھی چار دن 
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں 
جو بہادر شاہ ظفر کے نام سے منسوب ہوگیا تھا ۔ اس پر کافی بحث اور تحقیق ہو چکی ہے ۔

آج کی پیش کش

ابن انشا

ابن انشا

1927-1978

ممتاز پاکستانی شاعر ، اپنی غزل ’ کل چودھویں کی رات تھی‘ کے لئے مشہور

ایک بار کہو تم میری ہو

ہم گھوم چکے بستی بن میں

اک آس کی پھانس لیے من میں

پوری نظم دیکھیں

ریختہ بلاگ

پسندیدہ ویڈیو
This video is playing from YouTube

ویڈیو شیئر کیجیے

ای-کتابیں

اقبال دلہن

بشیر الدین احمد دہلوی 

1908 اخلاقی کہانی

کلیات انور شعور

انور شعور 

2015 کلیات

مغل تہذیب

محبوب اللہ مجیب 

1965

اودھوت کا ترانہ

 

1958 نظم

شمارہ نمبر۔002

ڈاکٹر محمد حسن 

1970 عصری ادب

مزید ای- کتابیں