aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "گذرے"
گلوبل گرے
ناشر
بارکلے گرے
مصنف
دلکش پریس گذری بازار، پٹنہ
ہنری گرے
1827 - 1861
صحّت میں گوارا ہے جو تکلیف گذر جائےاس طرح کا بیمار نہ مرتا ہو تو مرجائے
تھی یہی فصل یہی دھوپ یہی گرم ہواٹھنڈے پانی پہ گرے پڑتے تھے، حُرؔ کے رفقا
یہ تو کہہ دو کہیں بابا بھی ملیں گے اماںکئی دن گذرے ہیں وہ ہیں مری آنکھوں سے نہاں
ایڈنا ہنٹ دوسری طرف سرک گئی۔ ایرانی نما شخص کھڑکی کے باہر گذرتے ہوئے سہانے منظر دیکھنے میں محو ہوگیا۔ تمارا نے اس سے آہستہ سے کہا، ’’یہ بزرگ سرطان میں مبتلا ہیں۔ جن لوگوں کو یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ چند روز بعد دنیا سے جانے والے ہیں انہیں...
گذرے ہیں گرچہ مردم خوب آگے بھی ہزارپر یہ شرف خدا کی طرف سے ہے یہ وقار
ذیشان ساحل اردو نظم کے منفرد اور حساس لہجے کے شاعر ہیں جنہوں نے جدید دور کی پیچیدہ کیفیات کو سادہ مگر گہرے استعاروں کے ذریعے بیان کیا ہے۔ ان کی نظموں میں ایک خاموش احتجاج، ایک تہہ دار تنقید، اور ایک فکری نرمی پائی جاتی ہے جو قاری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ ان کے ہاں دکھ، خاموشی، اور وقت جیسے موضوعات کا جمالیاتی اظہار نمایاں ہے۔
شعر وادب کے سماجی سروکار بھی بہت واضح رہے ہیں اور شاعروں نے ابتدا ہی سے اپنے آس پاس کے مسائل کو شاعری کا حصہ بنایا ہے البتہ ایک دور ایسا آیا جب شاعری کو سماجی انقلاب کے ایک ذریعے کے طور پر اختیار کیا گیا اور سماج کے نچلے، گرے پڑے اور کسان طبقے کے مسائل کا اظہار شاعری کا بنیادی موضوع بن گیا ۔آپ ان شعروں میں دیکھیں گے کہ کسان طبقہ زندگی کرنے کے عمل میں کس کرب اور دکھ سے گزرتا ہے اور اس کی سماجی حثیت کیا ہے ۔ مزدوروں پر کی جانے والی شاعری کی اور بھی کئی جہتیں ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔
ہمارا یہ انتخاب عاشق کی معشوق کے دیدار کی خواہش کا بیان ہے ۔ یہ خواہش جس گہری بے چینی کو جنم دیتی ہے اس سے ہم سب گزرے بھی ہیں لیکن اس تجربے کو ایک بڑی سطح پر جاننے اور محسوس کرنے کیلئے اس شعری متن سے گزرنا ضروری ہے ۔
गिरे گِرے
گِرا (گرنا کا صیغۂ ماضی) کی جمع، نیز مغیرہ حالت، مرکبات میں مستعمل
गुज़री گُذری
गुज़रा گُذْرا
गुज़र گُذَر
سمندر اگر میرے اندر گرے
وزیر آغا
مضامین
سرسری اس جہاں سے گزرے
قمر اعظم ہاشمی
خود نوشت
موت کا فریب
گزرے وقتوں کی عبارت
ریاض مجید
غزل
نظرے خوش گزرے
بیگم انیس قدوائی
تنقید
تشریح (اناٹمی) عظمیات (آسٹیالوجی)
سائنس
دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ
جیلانی بانو
تشریح اناٹمی
تشریح عروقیات
گزرے تھے ہم جہاں سے
افضل توصیف
سفر نامہ
چراغ رہ گذر
ظہیر انور
چراغ راہ گذر
عظمت بھوپالی
مجموعہ
تشریح (اناٹمی)
ننیھال میں گزرے دن
شنکر
ادب اطفال
کالا شہر گورے لوگ
احسان الحق
ناول
قصہ میرا بھی سانحہ ہے عجبکس پہ گذرا ہے یہ ستم یہ غضب
اور یہی سبب ہے کہ باوجود یہ کہ کئی قرن گورنمنٹ کو ہندوستانیوں کو تعلیم دیتے ہوئے گذرے مگر ان کی سوسائٹی کی حالت اب تک درست نہیں ہوئی۔...
جو عذرا پہ گذرا سو مشہور ہےدمن کا بھی احوال مذکور ہے
ایک متعدد بہ ذخیرہ کلام اس کے بعد کا بھی ہے۔ یعنی 1920ء سے لے کر عین وقت وفات ستمبر 1921ء تک کا۔ ممکن ہے کہ کبھی یہ بھی کلیات چہارم کے نام سے شائع ہو جائے۔ لیکن ابھی تک کہ مرحوم کی وفات کو 23 سال گذر چکے ہیں،...
گذرے گی جو کچھ سر کے اپر سب وہ سہے گابیٹوں میں بھتیجوں میں کوئی کم ہی رہے گا
اس کی یہ ناقدری۔ انھیں لڑکوں کے پیچھے اس نے اپنی ساری جوانی خاک میں ملادی۔ اس کے شوہر کو گذرے آج پانچ سال ہوئے تب اس کی چڑھتی جوانی تھی۔ یہ تین چینٹے یوت اس کے گلے منڈھ دیے ہیں۔...
کسی کا کسی سے میل نہ ہوگا اور اس کا امکان زیادہ ہے کہ ہر بااثر طبقہ اپنے طور پر اپنے قاعدے اختیار کرےگا۔ جس زبان کے بولنے والے ابھی تک اس بات پر متفق نہ ہو سکے کہ ’’دعویٰ‘‘ لکھیں یا ’’دعوا‘‘، ’’گذر‘‘ لکھیں یا ’’گزر‘‘، ’’توتا‘‘ لکھیں یا...
دس منٹ گذرے۔۔۔ پھر بیس منٹ۔...
اب کے بھی وہ حسبِ معمول بیمار پڑا اور دوا نہ کھائی، لیکن بخار اب کی موت کا پروانہ لے کر چلا تھا۔ ہفتہ گذرا۔ دو ہفتہ گذرے۔ مہینہ گذر گیااور ہرکھو چار پائی سے نہ اٹھا۔ اب اسے دوا کی ضرورت معلوم ہوئی۔...
دل شب سے گذرے ہے فریاد یاںسر رہ تک آ دیکھ یہ خستہ حال
زناں اسیر ہوئیں مرد ایک ایک مواکہاں حسین کے گذرے ہیں اقرباے حسین
دوڈھائی سو برس آرام سے گزرے۔ ذئب بن صالح کی خاندانی شکل و شباہت کے نقوش مقامی یہودی اور بعض ترکی یا عیسائی گھرانوں کے رنگوں سے مل کر دھندلے پڑنے لگے تھے۔ ذئب بن صالح کی براہ راست اولادمیں کوئی نہ بچا تھا، لیکن اس کا نام باقی تھا۔...
پھر کبھو وہم میں بھی گذرے نہ ملنا تیراجب نہ تب در پہ اسی کے رہے ماتھا میرا
یہ جس دن وہاں آ کر رہے، کھڑکیاں بند پڑی تھیں۔ کئی برس گذر گئے، اسی طرح بند پڑی رہیں، کبھی کھول کر باغ کی طرف نہ دیکھا۔...
یہ کیوں؟ صرف اس لئے کہ ہم دیکھتے ہیں کائنات میں کوئی چیز نہیں جو تغیر پذیر نہ ہو، ہمارے جذبات بدلے، خیالات بدلے، تغیر حالت کے ساتھ وہ آثار خارجی بھی جن میں ہم گھرے ہوئے تھے، کچھ سے کچھ ہوگئے۔...
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books