جون ایلیا

  • 1931-2002
  • کراچی

پاکستان کے اہم ترین جدید شاعروں میں شامل، اپنے غیر روایتی طور طریقوں کے لیے مشہور

پاکستان کے اہم ترین جدید شاعروں میں شامل، اپنے غیر روایتی طور طریقوں کے لیے مشہور

info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے

آج بہت دن بعد میں اپنے کمرے تک آ نکلا تھا


جوں ہی دروازہ کھولا ہے اس کی خوشبو آئی ہے

اب جو رشتوں میں بندھا ہوں تو کھلا ہے مجھ پر


کب پرند اڑ نہیں پاتے ہیں پروں کے ہوتے

اب تو اس کے بارے میں تم جو چاہو وہ کہہ ڈالو


وہ انگڑائی میرے کمرے تک تو بڑی روحانی تھی

بہت نزدیک آتی جا رہی ہو


بچھڑنے کا ارادہ کر لیا کیا

حاصل کن ہے یہ جہان خراب


یہی ممکن تھا اتنی عجلت میں

حملہ ہے چار سو در و دیوار شہر کا


سب جنگلوں کو شہر کے اندر سمیٹ لو

ہر شخص سے بے نیاز ہو جا


پھر سب سے یہ کہہ کہ میں خدا ہوں

اک عجب آمد و شد ہے کہ نہ ماضی ہے نہ حال


جونؔ برپا کئی نسلوں کا سفر ہے مجھ میں

علاج یہ ہے کہ مجبور کر دیا جاؤں


وگرنہ یوں تو کسی کی نہیں سنی میں نے

جو گزاری نہ جا سکی ہم سے


ہم نے وہ زندگی گزاری ہے

کیسے کہیں کہ تجھ کو بھی ہم سے ہے واسطہ کوئی


تو نے تو ہم سے آج تک کوئی گلہ نہیں کیا

کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے


روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے

کتنی دل کش ہو تم کتنا دلجو ہوں میں


کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے

کیا کہا عشق جاودانی ہے!


آخری بار مل رہی ہو کیا

میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس


خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں

میری بانہوں میں بہکنے کی سزا بھی سن لے


اب بہت دیر میں آزاد کروں گا تجھ کو

ساری گلی سنسان پڑی تھی باد فنا کے پہرے میں


ہجر کے دالان اور آنگن میں بس اک سایہ زندہ تھا

اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا


جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں

یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا


ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا

یہ وار کر گیا ہے پہلو سے کون مجھ پر


تھا میں ہی دائیں بائیں اور میں ہی درمیاں تھا

comments powered by Disqus