ہجر کے موقع پر کہی گئیں پانچ نظمیں

ہجر محبّت کے سفر میں وہ مرحلہ ہے , جہاں درد ایک سمندر سا محسوس ہوتا ہے .. ایک شاعر اس درد کو اور زیادہ محسوس کرتا ہے اور درد جب حد سے گزر جاتا ہے تو وہ کسی تخلیق کو انجام دیتا ہے . یہاں پر دی ہوئی پانچ نظمیں اسی درد کا سایہ ہے

258
Favorite

باعتبار

ہجر کی راکھ اور وصال کے پھول

آج پھر درد و غم کے دھاگے میں

فیض احمد فیض

ہجر کے پر بھیگ جائیں

کہاں تک خیمۂ دل میں چھپائیں

نوشی گیلانی

عذاب ہجر

یہ تیرے ہجر کی آندھی

قیصر ضیا قیصر

موسم ہجر میں

تمہاری آنکھ بھی ہر روز کاجل سے سنورتی ہے

شہرام سرمدی

نصف ہجر کے دیار سے

ہوا کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر

سعید احمد