دوہے

دوہا ہندی شاعری کی صنف ہے جو اب اردو میں بھی ایک شعری روایت کے طور پر مستحکم ہو چکی ہے۔ ہر دوہا دو ہم قافیہ مصرعوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہر مصرعے میں 24 ماترائیں ہوتی ہیں۔ ہر مصرعے کے دوحصے ہوتے ہیں، جن میں سے ایک حصے میں 13 اور دوسرے میں 11 ماترائیں ہوتی ہیں اور ان کے درمیان ہلکا سا وقفہ ہوتا ہے۔

بچہ بولا دیکھ کر مسجد عالی شان

اللہ تیرے ایک کو اتنا بڑا مکان

ندا فاضلی

نقشہ لے کر ہاتھ میں بچہ ہے حیران

کیسے دیمک کھا گئی اس کا ہندوستان

ندا فاضلی

وہ صوفی کا قول ہو یا پنڈت کا گیان

جتنی بیتے آپ پر اتنا ہی سچ مان

ندا فاضلی

سیدھا سادھا ڈاکیہ جادو کرے مہان

ایک ہی تھیلے میں بھرے آنسو اور مسکان

ندا فاضلی

میں رویا پردیس میں بھیگا ماں کا پیار

دکھ نے دکھ سے بات کی بن چٹھی بن تار

ندا فاضلی

گھر کو کھوجیں رات دن گھر سے نکلے پاؤں

وہ رستہ ہی کھو گیا جس رستے تھا گاؤں

ندا فاضلی

مجھ جیسا اک آدمی میرا ہی ہم نام

الٹا سیدھا وہ چلے مجھے کرے بد نام

ندا فاضلی

سب کی پوجا ایک سی الگ الگ ہر ریت

مسجد جائے مولوی کوئل گائے گیت

ندا فاضلی

نینوں میں تھا راستہ ہردے میں تھا گاؤں

ہوئی نہ پوری یاترا چھلنی ہو گئے پاؤں

ندا فاضلی

میں بھی تو بھی یاتری چلتی رکتی ریل

اپنے اپنے گاؤں تک سب کا سب سے میل

ندا فاضلی

عادت سے لاچار ہے عادت نئی عجیب

جس دن کھایا پیٹ بھر سویا نہیں غریب

اختر نظمی

اس جیسا تو دوسرا ملنا تھا دشوار

لیکن اس کی کھوج میں پھیل گیا سنسار

ندا فاضلی

آج مجھی پر کھل گیا میرے دل کا راز

آئی ہے ہنستے سمے رونے کی آواز

بھگوان داس اعجاز

ہر اک بات میں ڈالے ہے ہندو مسلم کی بات

یہ نا جانے الھڑ گوری پریم ہے خود اک ذات

جمیل الدین عالی

بھاری بوجھ پہاڑ سا کچھ ہلکا ہو جائے

جب میری چنتا بڑھے ماں سپنے میں آئے

اختر نظمی

جیون جینا کٹھن ہے وش پینا آسان

انساں بن کر دیکھ لو او شنکرؔ بھگوان

شاہد میر

چڑیا نے اڑ کر کہا میرا ہے آکاش

بولا شکھرا ڈال سے یوں ہی ہوتا کاش

ندا فاضلی

ستی تو میں ہو جاؤں گی پر یہ مجھے بتا

پہلے اگر میں مر گئی جلے گا تو بھی کیا

قتیل شفائی

اردو والے ہندی والے دونوں ہنسی اڑائیں

ہم دل والے اپنی بھاشا کس کس کو سکھلائیں

جمیل الدین عالی

ڈوب چلا ہے زہر میں اس کی آنکھوں کا ہر روپ

دیواروں پر پھیل رہی ہے پھیکی پھیکی دھوپ

منیر نیازی

چھیڑ چھاڑ کرتا رہا مجھ سے بہت نصیب

میں جیتا ترکیب سے ہارا وہی غریب

اختر نظمی

بھیتر کیا کیا ہو رہا اے دل کچھ تو بول

ایک آنکھ روئے بہت ایک ہنسے جی کھول

بھگوان داس اعجاز

آئے مٹھی بند لیے چل دیے ہاتھ پسار

وہ کیا تھا جو لٹ گیا دیکھو سوچ بچار

ڈاکٹر نریش

اپنی خوشیاں بھول جا سب کا درد خرید

سیفیؔ تب جا کر کہیں تیری ہوگی عید

سیفی سرونجی

صاف بتا دے جو تو نے دیکھا ہے دن رات

دنیا کے ڈر سے نہ رکھ دل میں دل کی بات

مخمور سعیدی

گھر بیٹھے ہو جائے گا ایشور سے بھی میل

بچہ بن کر دو گھڑی بچوں کے سنگ کھیل

بسمل نقشبندی

عالؔی اب کے کٹھن پڑا دیوالی کا تیوہار

ہم تو گئے تھے چھیلا بن کر بھیا کہہ گئی نار

جمیل الدین عالی

کھول دیے کچھ سوچ کر سب پنجروں کے دوار

اب کوئی پنچھی نہیں اڑنے کو تیار

اختر نظمی

ہوگی اک دن گھر مرے پھولوں کی برسات

میں پگلا اس آس میں ہنستا ہوں دن رات

بھگوان داس اعجاز

اس کو برا کہہ دے مگر سن لے اتنی بات

اپنے اندر جھانک کر دیکھ اپنی اوقات

شکیل جے پوری

آنسو سے ندی بنے ندی سمندر جائے

پربت کا رونا مگر کوئی دیکھ نہ پائے

بدنام نظر

ندیا نے مجھ سے کہا مت آ میرے پاس

پانی سے بجھتی نہیں انتر من کی پیاس

اختر نظمی

آنگن کے اک پیڑ کی ٹھنڈی میٹھی چھاؤں

شہر میں جیسے آ گیا چل کر میرا گاؤں

سلیم انصاری

آسمان پر چھا گئی گھٹا گھور گھنگور

جائیں تو جائیں کہاں ویرانے میں شور

بھگوان داس اعجاز

کیوں راتوں کا جاگیے کر کے اس کو یاد

پتھر دل پر کب اثر کرتی ہے فریاد

اے۔ڈی۔راہی

آنکھوں کو یوں بھا گیا اس کا روپ انوپ

سردی میں اچھی لگے جیسے کچی دھوپ

فاروق انجینئر

پیسے کی بوچھار میں لوگ رہے ہمدرد

بیت گئی برسات جب موسم ہو گیا سرد

بیکل اتساہی

آگے پیچھے رکھ نظر ظاہر باطن بھانپ

غافل پا کر ڈس نہ لے آستین کا سانپ

ناوک حمزہ پوری

اچھا ہے کہ لگا نہیں انہیں پیار کا روگ

آتے آتے آئیں گے راہ پہ اگلے لوگ

اے۔ڈی۔راہی

ساجن ہم سے ملے بھی لیکن ایسے ملے کہ ہائے

جیسے سوکھے کھیت سے بادل بن برسے اڑ جائے

جمیل الدین عالی

تم بن چاند نہ دیکھ سکا ٹوٹ گئی امید

بن درپن بن نین کے کیسے منائیں عید

بیکل اتساہی

ٹوٹی پھوٹی کشتیاں دریا میں گرداب

میرے مرنے کے لیے یہ لمحے نایاب

شہریار

ذکر وہی آٹھوں پہر وہی کتھا دن رات

بھول سکے تو بھول جا گئے دنوں کی بات

اختر نظمی

کس کس کو سمجھائے گا یہ نادانی چھوڑ

چہرے کو سندر بنا آئینہ مت توڑ

ارشد عبد الحمید

دریا دریا گھومے مانجھی پیٹ کی آگ بجھانے

پیٹ کی آگ میں جلنے والا کس کس کو پہچانے

جمیل الدین عالی

جیون بھر جس نے کئے اونچے پیڑ تلاش

بیری پر لٹکی ملی اس چڑیا کی لاش

اختر نظمی

آنکھیں دھوکا دے گئیں پاؤں چھوڑ گئے ساتھ

سبھی سہارے دور ہیں کس کا پکڑیں ہاتھ

شمس فرخ آبادی

ٹرین چلی تو چل پڑے کھیتوں کے سب جھاڑ

بھاگ رہے ہیں ساتھ ہی جنگل اور پہاڑ

بیکل اتساہی

لوٹا گیہوں بیچ کر اپنے گاؤں کسان

بٹیا گڑیا سی لگی پتنی لگی جوان

اختر نظمی

من صحرا ہے پیاس کا تن زخموں کی سیج

ساری دھرتی کربلا مولا پانی بھیج

ظفر گورکھپوری