عید پر نظمیں

عید ایک تہوار ہے اس موقع

ے پر لوگ خوشیاں مناتے ہیں لیکن عاشق کیلئے خوشی کا یہ موقع بھی ایک دوسری ہی صورت میں وارد ہوتا ہے ۔ محبوب کے ہجر میں اس کیلئے یہ خوشی اور زیادہ دکھ بھری ہوجاتی ہے ۔ کبھی وہ عید کا چاند دیکھ کر اس میں محبوب کے چہرے کی تلاش کرتا ہے اور کبھی سب کو خوش دیکھ کر محبوب سے فراق کی بد نصیبی پر روتا ہے ۔ عید پر کہی جانے والی شاعری میں اور بھی کئی دلچسپ پہلو ہیں ، جنہیں آپ ان نظموں سے سمجھ سکتے ہیں۔

1.3K
Favorite

باعتبار

عید کارڈ

تجھ سے بچھڑ کر بھی زندہ تھا

احمد فراز

عید کا دن

زہے قسمت ہلال عید کی صورت نظر آئی

مجید لاہوری

عید

چلو ہم عید منائیں کہ جشن کا دن ہے

شفا کجگاؤنوی

عید مناؤں کیسے

آج میں عید مناؤں تو مناؤں کیسے

صلاح الدین ایوب

عید

گاؤں میں عید پھرا کرتی تھی گلیاں گلیاں

صلاح الدین ایوب

ناداروں کی عید

زردار نمازی عید کے دن کپڑوں میں چمکتے جاتے ہیں

نشور واحدی

جشن عید

سبھی نے عید منائی مرے گلستاں میں

شکیب جلالی

ہلال عید

کیوں اشارہ ہے افق پر آج کس کی دید ہے

نثار کبریٰ عظیم آبادی

عید اس پری وش کی

پھوٹی لب نازک سے وہ اک شوخ سی لالی

عبد الاحد ساز

عیدی کیسے بڑھائی جائے

بچوں نے عید پر جب نعرے بہت لگائے

مظفر حنفی

پیغام عید

اپنی آنکھوں میں خمستان مے ناب لیے

حفیظ بنارسی

عید کی خریداری

مسلماں قرض لے کر عید کا ساماں خریدیں گے

سید محمد جعفری

بچوں کی عید

عید بہت ہی دھوم سے آئی

مسعودہ حیات

عید ملن

بچھڑے ہوؤں کو بچھڑے ہوؤں سے ملائے ہے

نذیر بنارسی

عید کی بہار

جی بھر کر عید منائیں گے

محمد شفیع الدین نیر

عید کی خوشی

لو پھر ہماری عید آ گئی ہے

محمد شفیع الدین نیر

عید کی اچکن

سجتی تھی کبھی تن پہ جو تھی عید کی اچکن

سید محمد جعفری

عید گاہ

آج خوشی سے ناچتے بچے کرتے ہیں سب کام

سطوت رسول

ایک چھبیلی عید

ایک چھبیلی نئی نویلی سندر پیاری لڑکی

عبد الرحیم نشتر

عید گاہ

آئی جو عید ہم نے

مرتضیٰ ساحل تسلیمی