Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف: تعارف

شناخت: ناول نگار، افسانہ نگار، ڈرامہ نگار اور سوانح نگار

صالحہ عابد حسین اردو ادب کا وہ معتبر نام ہیں جن کی تحریروں نے اصلاحِ معاشرہ اور خواتین کے حقوق کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ نہ صرف ایک بلند پایہ ادیبہ تھیں بلکہ اردو کے عظیم شاعر مولانا الطاف حسین حالی کی فکری وارث بھی تھیں۔

صالحہ عابد حسین کا اصل نام مصداق فاطمہ تھا۔ وہ 18 اگست 1913ء کو ہریانہ کے تاریخی شہر پانی پت میں پیدا ہوئیں۔ ان کا تعلق ایک انتہائی علمی اور معتبر گھرانے سے تھا۔ ان کے والد خواجہ غلام الثقلین اپنے وقت کے جید عالم اور رسالہ "عصرِ جدید" کے مدیر تھے۔ ان کی والدہ مشتاق فاطمہ، اردو کے نامور شاعر اور نقاد الطاف حسین حالی کی پوتی تھیں۔ محض دو برس کی عمر میں والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا، لیکن گھر کی علمی فضا نے ان کی فکری آبیاری کی۔

پانی پت میں اس وقت لڑکیوں کے اسکول نہیں تھے، چنانچہ ان کے چچا سجاد حسین نے "حالی مسلم گرلز اسکول" قائم کیا، جہاں سے صالحہ نے مڈل پاس کیا۔ 1933ء میں ان کی شادی اردو کے نامور دانشور اور ادیب ڈاکٹر عابد حسین سے ہوئی۔ اس شادی نے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشی۔ شادی کے طویل عرصے بعد 1961ء میں انہوں نے پنجاب سے "ادیب فاضل" کیا اور پھر نجی طور پر میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ وہ انگریزی ادب کی دلدادہ تھیں اور ٹیگور و سرت چندر چٹرجی کی تحریروں سے بے حد متاثر تھیں۔

صالحہ عابد حسین کا پہلا افسانہ "لمبی داڑھی والا بوڑھا" تھا۔ ان کی تحریریں اس وقت کے موقر جرائد جیسے "ادبِ لطیف"، "نقوش"، "ساقی" اور "مخزن" میں باقاعدگی سے شائع ہوتی رہیں۔ ان کا اسلوب سادہ، سلیس اور شیریں ہے۔ وہ پیچیدہ نگاری کے بجائے سہل پسندی کو ترجیح دیتی تھیں تاکہ قاری تک مفہوم آسانی سے پہنچ سکے۔ ان کے جملوں کی بے ساختگی اور ماحول کے مطابق اسلوب کی تبدیلی انہیں ایک صاحبِ طرز ادیبہ بناتی ہے۔

ان کی ادبی کائنات وسیع ہے، جس میں ناول، افسانے اور ڈرامے شامل ہیں۔ مشہور ناول: عذرا، آتشِ خاموش، قطرے سے گہر ہونے تک، یادوں کے چراغ، راہِ عمل، اپنی اپنی صلیب، الجھی ڈور، ساتواں آنگن اور گوری سوئے پیج پر۔ افسانوی مجموعے: نقشِ اول، سازِ ہستی، نراس میں آس، نو نگے، دردِ درماں اور تین چہرے تین آوازیں۔ ڈرامے: زندگی کے کھیل، امتحان، وقت کی شادی، بڑے میاں اور آنکھ کا ڈاکٹر۔

صالحہ عابد حسین نے بچوں کے لیے بھی گراں قدر کام کیا۔ ان کی کتابیں "سنہرے بالوں والے"، "جادو کا ہرن"، "سندر چنار" اور "بچوں کے الطاف حسین حالی" اس صنف میں اہم سنگ میل ہیں۔ سوانحی ادب میں ان کا سب سے بڑا کارنامہ "یادگارِ حالی" ہے، جس میں انہوں نے اپنے پردادا مولانا حالی کی زندگی اور خدمات کو تفصیل سے رقم کیا۔ اس کے علاوہ "جانے والوں کی یاد آتی ہے" اور "ذکرِ جمیل" ان کی اہم سوانحی کتب ہیں، جبکہ "سلسلہ روز و شب" ان کی خود نوشت ہے۔

صالحہ عابد حسین کے فکشن کا بنیادی محور عورت اور سماجی اصلاح ہے۔ انہوں نے بدلتی ہوئی تہذیبی اقدار کو بڑی چابکدستی سے بیان کیا۔ ان کے یہاں شادی بیاہ کی رسومات، جہیز کی لعنت، طلاق کے مسائل اور بے جوڑ شادیوں جیسے موضوعات کثرت سے ملتے ہیں۔ وہ عورت کو محض "محبوبہ" کے روپ میں نہیں بلکہ عصمت و آبرو کے افلاطونی تصور اور اسلامی تعلیمات کے تناظر میں دیکھتی تھیں۔ اگرچہ ناقدین انہیں قرۃ العین حیدر یا عصمت چغتائی کے ہم پلہ قرار نہیں دیتے، لیکن سماجی مسائل کی تفہیم میں ان کا اپنا ایک منفرد مقام ہے۔

صالحہ عابدہ حسین کی ادبی خدمات کے صلے میں حکومت ہند نے 1983ء میں پدم شری اعزاز سے نوازا۔

وفات: 8 جنوری 1988ء کو نئی دہلی میں انتقال ہوا، جامعہ نگر قبرستان میں سپرد خاک ہوئیں۔

.....مزید پڑھئے
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف کی مزید کتابیں

مصنف کی دیگر کتابیں یہاں پڑھئے۔

مزید

مقبول و معروف

مقبول و معروف اور مروج کتابیں یہاں تلاش کریں

مزید
بولیے