aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
میکش کاشمیری (17 جولائی 1926ء – 19 جنوری 2006ء) کا اصل نام کیلاش ناتھ کول تھا۔ وہ ایک علمی اور ادبی کشمیری پنڈت خاندان میں پیدا ہوئے اور ان کی پرورش جموں میں ہوئی۔ شاعری، ادب اور تعلیم سے گہری وابستگی رکھنے والے میکش کاشمیری نے اپنی شخصیت اور تخلیقی سفر پر کشمیر کے تہذیبی اور ثقافتی ماحول کی گہری چھاپ قبول کی۔
دسمبر 1947ء میں ریڈیو کشمیر جموں کے قیام کے ابتدائی زمانے ہی میں وہ اس ادارے سے وابستہ ہوئے۔ براڈکاسٹنگ کے میدان میں انہوں نے کئی دہائیوں تک خدمات انجام دیں اور اپنی آواز، تحریر اور ادبی ذوق کے ذریعے ریڈیو کے سامعین سے تعلق قائم رکھا۔ ان کی پیشہ ورانہ زندگی میں دیانت داری اور خودداری نمایاں اوصاف تھے۔ ملازمت سے متعلق بعض مشکلات کے بعد بھی انہوں نے اپنے اصولوں سے سمجھوتا نہیں کیا اور بعد کے زمانے میں تدریس سے وابستہ ہو گئے۔ اپنے آبائی گھر سے طلبہ کو انگریزی پڑھاتے رہے اور اپنی علمی صلاحیتوں کو نئی نسل کی تربیت کے لیے استعمال کیا۔
میکش کاشمیری کی شاعری میں زندگی کے تجربات، امید، حوصلہ، انسانی جذبات اور خودداری کے موضوعات نمایاں ہیں۔ ان کا شعری لہجہ سادہ، تجربے سے قریب اور داخلی کیفیتوں کا ترجمان ہے۔ ان کے یہاں ذاتی زندگی کے نشیب و فراز کے ساتھ اپنے خطے، اس کی تہذیب اور اس کی تاریخی یادداشت سے گہری وابستگی بھی نظر آتی ہے۔
ان کی شاعری میں کشمیر کے قدرتی اور تہذیبی مناظر بھی ایک خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ دریائے توی کے موضوع پر لکھی گئی ان کی نظم اس حوالے سے قابلِ ذکر ہے، جس میں انہوں نے دریا کے بجائے اس کے کناروں پر موجود گول پتھروں کو موضوع بنایا اور انہیں گزرتے وقت اور خطے کی تاریخ کے خاموش گواہوں کے طور پر دیکھا۔ ان کی یہ تخلیق یادوں کے چراغ نامی البم میں بھی شامل کی گئی۔
ان کے اشعار میں ان کے عزم و حوصلے اور زندگی کے بارے میں ان کے مخصوص رویے کی جھلک ملتی ہے:
چراغِ راہ اگر بجھ گیا تو کیا غم ہے
چراغِ دل تو فروزاں ہے روشنی کے لیے
اور ایک اور شعر میں ان کی بے نیازی اور خود اعتمادی کا رنگ نمایاں ہے:
سارے جہاں سے بے نیاز، مست ہوں اپنی ذات میں
مجھ سے کسی کو کام کیا؟ مجھ کو کسی سے کام کیا!
میکش کاشمیری کی ادبی خدمات کو ان کی زندگی کے آخری دور اور وفات کے بعد بھی یاد کیا گیا۔ ڈاکٹر رفیق مسعودی، سابق سیکریٹری جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز، کی کوششوں سے ان کی یاد میں شیرازہ کا خصوصی شمارہ شائع ہوا، جس میں ان کے معاصرین اور مداحوں کے مضامین اور یادداشتیں شامل تھیں۔
میکش کاشمیری کا انتقال 19 جنوری 2006ء کو نوی ممبئی میں ہوا۔ ان کے شعری ورثے کو ان کے صاحب زادے سنجیو کول اور گلوکارہ و موسیقار سیما انیل سہگل کی کوششوں سے موسیقی کے ذریعے بھی محفوظ کیا گیا۔ ان کی معروف کتابوں میں بالِ ہما، بالِ عنقا، سازِ رگِ جاں اور شیرازہ شامل ہیں۔ میکش کاشمیری کی زندگی اور شاعری ایک ایسے ادیب کی یاد دلاتی ہے جس نے مشکلات کے باوجود اپنے ادبی ذوق، خودداری اور اپنے فن سے وابستگی کو برقرار رکھا۔