Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف: تعارف

شناخت: فارسی زبان کے عظیم ترین غزل گو شاعر، صوفی مفکر اور 'لسان الغیب' کے لقب سے مشہور

فارسی ادب کی تاریخ میں اگر کسی ایک شاعر کو آفاقیت اور عالمگیر مقبولیت حاصل ہے، تو وہ خواجہ شمس الدین محمد حافظ شیرازی ہیں۔ 14ویں صدی کے یہ عظیم صوفی شاعر نہ صرف ایران بلکہ پوری دنیا میں اپنی غزلوں کی جادو بیانی کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔ انہیں 'لسان الغیب' اور 'ترجمان الاسرار' کہا جاتا ہے، کیونکہ ان کے کلام میں ایسی روحانی گہرائی ہے جو انسانی دل کے پوشیدہ رازوں کی ترجمانی کرتی ہے۔

حافظ شیرازی 1325ء کے لگ بھگ ایران کے شہر شیراز میں پیدا ہوئے۔ ان کی ابتدائی زندگی کے بارے میں زیادہ تر معلومات روایات اور تذکروں پر مبنی ہیں۔ بچپن ہی میں قرآن کریم کو مکمل حفظ کر لینے کی سعادت حاصل کی، جس کی بنا پر وہ 'حافظ' کے لقب سے مشہور ہوئے اور یہی ان کا مستقل تخلص بن گیا۔ انہوں نے کم عمری ہی میں رومی، سعدی اور عطار جیسے عظیم اساتذہ کے کلام کا گہرا مطالعہ کیا۔

حافظ کی شاعری کا محور ان کی 'غزل' ہے۔ انہوں نے فارسی غزل کو فن اور معانی کے اس بلند مقام پر پہنچا دیا جہاں سے آگے جانا ناممکن نظر آتا ہے۔ ان کے کلام کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

عشقِ حقیقی و مجازی کا سنگم: حافظ نے عشقِ الٰہی (تصوف) اور انسانی جذبات کو اس طرح باہم پیوست کیا ہے کہ ان کی غزل ایک ہی وقت میں معرفت کا درس بھی دیتی ہے اور انسانی احساسات کی عکاس بھی نظر آتی ہے۔

ان کے اشعار میں الفاظ کے کثیر المعانی اور استعاروں کا ایسا حسین امتزاج ہے کہ ہر قاری اپنے ظرف اور ذہنی سطح کے مطابق اس سے معنی اخذ کرتا ہے۔

حافظ نے اپنے دور کے مصلحت پسند زاہدوں اور ریاکار صوفیوں کو اپنی طنزیہ شاعری کا نشانہ بنایا اور خلوصِ دل کو دین کی اصل قرار دیا۔

حافظ نے شیراز کے کئی نشیب و فراز دیکھے۔ وہ شاہ ابو اسحاق اور شاہ شجاع جیسے حکمرانوں کے مقرب رہے۔ ان کی زندگی سے وابستہ امیر تیمور کے ساتھ ملاقات کا واقعہ بہت مشہور ہے، جہاں حافظ نے اپنے ایک شعر کی تشریح میں ایسی بذلہ سنجی دکھائی کہ تیمور جیسا سخت گیر حکمران بھی ان کا معتقد ہو گیا۔

فارسی بولنے والے معاشروں میں حافظ کا مقام ایک شاعر سے بڑھ کر ایک 'مرشد' کا ہے۔ ایرانی ثقافت میں 'فالِ حافظ' کی روایت آج بھی زندہ ہے، جہاں لوگ اہم فیصلوں اور مستقبل کے حالات جاننے کے لیے ان کے دیوان سے تبرکاً فال نکالتے ہیں۔

عالمی سطح پر جرمن شاعر گوئٹے ان سے اس قدر متاثر تھا کہ اس نے اپنا 'دیوانِ مغرب' ان کے نام معنون کیا۔ اس کے علاوہ ایمرسن، ایڈورڈ فٹز جیرالڈ اور برصغیر میں رابندر ناتھ ٹیگور جیسے مشاہیر ان کے مداح رہے۔

ایران میں ہر سال 12 اکتوبر کو "حافظ ڈے" کے طور پر منایا جاتا ہے۔

وفات: حافظ شیرازی نے 1390ء میں وفات پائی۔ ان کا مزار شیراز میں واقع ہے جسے 'حافظیہ' کہا جاتا ہے۔ یہ مزار آج بھی دنیا بھر کے ادب دوستوں اور صوفی منش لوگوں کے لیے جائے پناہ اور زیارت گاہ ہے۔

.....مزید پڑھئے
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف کی مزید کتابیں

مصنف کی دیگر کتابیں یہاں پڑھئے۔

مزید

مقبول و معروف

مقبول و معروف اور مروج کتابیں یہاں تلاش کریں

مزید
بولیے