Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

کتاب: تعارف

مختلف علوم میں ماہر ہونے کے باوجود عمر خیام کی شہرت کا سرمایہ اس کی فارسی رباعیات ہیں۔ رباعیوں کی زبان بڑی سادی، سہل اور روان ہے۔ لیکن ان میں فلسفیانہ رموزہیں جو اس کے ذاتی تاثرات کی آئینہ دار ہیں۔ عمر خیام کی رباعیات کا ترجمہ دنیا کے تقریباً سب معروف زبانوں مین ہوچکا ہے۔ اردو میں مختلف لوگوں نے اپنے اپنے اسلوب اور طریقے سے کیا ہے۔ زیر نظر خیام کی رباعیوں کا منظوم ترجمہ عبد الحمید عدم نے کیا ہے۔ خود عبد الحمید عدم غزل کے بہت اچھے شاعر ہیں، اچھوتے مضامین کے علاوہ آسان، مختصر اور رواں بحریں قاری کو بہت لطف دیتی ہے۔ اسی طرح یہ مترجم رباعیاں بھی بہت پرلطف ہیں۔

.....مزید پڑھئے

مصنف: تعارف

شناخت: فارسی کے عظیم رباعی گو شاعر، ممتاز ریاضی داں اور ماہرِ فلکیات

غیاث الدین ابو الفتح عمر بن ابراہیم نیشاپوری 18 مئی 1048ء کو ایران کے شہر نیشاپور میں پیدا ہوئے۔ ان کے نام کے ساتھ 'خیام' کا لفظ شامل ہے جس کے معنی 'خیمہ دوز' (Tent-maker) کے ہیں، جو غالباً ان کے آباؤ اجداد کا پیشہ تھا۔ انہوں نے نیشاپور میں علومِ دینیہ، فلسفہ، ریاضی اور فلکیات کی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں بخارا اور سمرقند جیسے علمی مراکز کا سفر کیا، جہاں انہوں نے اپنی مشہور کتاب 'رسالہ فی الجبر' تحریر کرنی شروع کی۔

عمر خیام اپنے دور کے مایہ ناز ریاضی داں تھے:

مکعب مساواتیں (Cubic Equations): وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے مکعب مساواتوں کا عمومی نظریہ پیش کیا اور مخروطی اشکال (Conic Sections) کے ذریعے ان کا ہندسی حل نکالا۔

اصولِ متوازی (Parallel Postulate): انہوں نے اقلیدس کے پانچویں اصول پر بحث کی اور 'خیام-سیکرری چوکور' (Khayyam-Saccheri Quadrilateral) کا تصور پیش کیا، جس نے صدیوں بعد 'غیر اقلیدسی ہندسہ' (Non-Euclidean Geometry) کی بنیاد رکھی۔

بائینومیل تھیورم: انہوں نے اعداد کے جزر نکالنے کے طریقوں پر کام کیا اور غالباً وہی پہلے شخص تھے جنہوں نے بائینومیل تھیورم (Binomial Theorem) کی اہمیت کو سمجھا۔

سلطان ملک شاہ اول کے دور میں خیام کو اصفہان میں رصد گاہ قائم کرنے اور تقویم (کیلنڈر) کی اصلاح کا کام سونپا گیا:

جلالی کیلنڈر: انہوں نے ایک شمسی تقویم ڈیزائن کی جو موجودہ 'گریگورین کیلنڈر' سے بھی زیادہ درست ہے۔ اس میں سال کی طوالت کا حساب اعشاریہ کے کئی درجوں تک درست لگایا گیا تھا (365.24219858156 دن)۔ یہ کیلنڈر آج بھی ایران اور افغانستان میں رائج شمسی تقویم کی بنیاد ہے۔

عمر خیام کی عالمی شہرت ان کی رباعیوں کی وجہ سے ہے۔ 1859ء میں ایڈورڈ فٹز جیرالڈ (Edward FitzGerald) کے انگریزی ترجمے نے خیام کو مغرب میں ایک افسانوی شخصیت بنا دیا۔ ان کی رباعیوں میں زندگی کی بے ثباتی، موت کا فلسفہ، حال میں جینے کی ترغیب اور کائنات کے اسرار پر حیرت کا اظہار ملتا ہے۔

اگرچہ بعض علماء ان رباعیوں کی ان سے نسبت پر شک کرتے ہیں، لیکن تاریخی طور پر انہیں ایک صاحبِ طرز شاعر تسلیم کیا جاتا ہے۔

خیام خود کو بوعلی سینا کا معنوی شاگرد مانتے تھے۔ ان کے نظریات کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ کچھ نقاد (جیسے صادق ہدایت) انہیں لا ادری (Agnostic) یا شکاک مانتے ہیں جو مذہبی انتہا پسندی کے مخالف تھے۔ دوسری طرف، صوفیانہ شارحین ان کی شاعری میں استعمال ہونے والی 'شراب' اور 'مستی' کو علامتی معنوں میں (خدا کی محبت میں سرشاری) لیتے ہیں۔ وہ انسانی عقل کی محدودیت اور تقدیر کے اٹل ہونے پر یقین رکھتے تھے۔

وفات: عمر خیام نے 83 برس کی عمر میں 4 دسمبر 1131ء کو اپنے آبائی شہر نیشاپور میں وفات پائی۔ ان کا مقبرہ آج بھی نیشاپور میں مرجعِ خلائق ہے، جس کی دیواروں پر ان کی رباعیات خطاطی کے نمونوں کے طور پر کندہ ہیں۔

.....مزید پڑھئے
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف کی مزید کتابیں

مصنف کی دیگر کتابیں یہاں پڑھئے۔

مزید

مقبول و معروف

مقبول و معروف اور مروج کتابیں یہاں تلاش کریں

مزید
بولیے