aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
آسٹریلیا میں مقیم ممتاز ادیب و محقق طارق محمود مرزا یکم جون 1961ء کو ضلع راولپنڈی، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ 1977ء میں میٹرک کے بعد کراچی منتقل ہوئے جہاں مکینیکل انجینئرنگ میں ڈپلوما اور کراچی یونیورسٹی سے اسلامیات میں ایم اے امتیازی حیثیت سے مکمل کیا۔ چار برس سلطنتِ عُمان کی وزارتِ دفاع میں خدمات انجام دینے کے بعد 1994ء میں اپنے خاندان کے ہمراہ آسٹریلیا منتقل ہوگئے اور سڈنی کو مستقل مسکن بنایا۔ وہاں آپ ادبی، صحافتی اور سماجی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ کئی برس تک ایک کمیونٹی اخبار کے ایڈیٹر رہے اور آج کل نیو ساؤتھ ویلز لائبریری بلیک ٹاؤن میں اُردو کےلینگویج ایمبیسیڈر ہیں۔ آپ کے کالم ،افسانے،تحقیقی مضامین پاکستانی او ربین الاقوامی اخبارات و جرائد کی زینت بنتے رہتےہیں۔
کئی برسوں سے آپ علامہ اقبال کے فکر و فلسفے پر تحقیقی کام میں مصروف ہیں۔ آسٹریلیا میں آپ نے "اقبال اسٹڈی سرکل" کی بنیاد رکھی جس کے ذریعے فکرِ اقبال کو فروغ دے رہےہیں۔ اقبال شناس کی حیثیت سے آپ متعدد قومی و بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کر چکے ہیں۔
آپ کے سفرنامے اپنے اسلوب و بیان کی وجہ سے ادبی دنیا میں منفرد مقام رکھتے ہیں۔ آپ محض راستوں اور مناظر کے بیان پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ تہذیب و ثقافت، روزمرہ زندگی، آرٹ اور عام انسانوں کی کہانیوں کو اس طرح جوڑتے ہیں کہ قاری کو ایک نئی اور زندہ دنیا میں لے جاتے ہیں۔
اب تک آپ کی چھ کتب منظرِ عام پر آچکی ہیں۔ خوشبو کا سفر، تلاش راہ، سفرِ عشق، دنیا رنگ رنگیلی، ملکوں ملکوں دیکھا چاند اور حیات و افکارِ اقبال۔ جبکہ نیا سفرنامہ، تین دیس ایک دل،اشاعت کے مراحل میں ہے۔
آپ کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں آپ کو اکیڈمی ادبیات پاکستان، پاک ٹی ہاؤس لاہور، اردو سوسائٹی آف آسٹریلیا، دریچہ اوسلو ناروے، اُردو انٹرنیشنل آف آسٹریلیا، پاکستان ایسوسی ایشن آف آسٹریلیا اور دی پائینئر کمیونٹی آرگنائزیشن آف کینیڈا سمیت متعدد اداروں کی جانب سے اعزازات دیے گئے۔ علاوہ ازیں مختلف جامعات میں آپ کی حیات و خدمات پر تحقیقی کام جاری ہے.