aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
گیتوں کا یہ مجموعہ میراجی کا ہے۔ وہ بڑے شاعر، مصنف، ترجمہ نگار اور کہانی نویس تھے۔ ان کی متعدد تصانیف مقبول خاص و عام ہوئیں جن میں " مشرق و مغرب کے نغمے، اس نظم میں ، نگار خانہ ، خیمے کے آس پاس" وغیرہ شامل ہیں ۔ زیر نظر گیت کے مجموعے کو چھ حصوں میں منقسم کیا گیا ہے۔ " کچھ اپنے من کے ، کچھ پرائے دھن کے ، کچھ موسم کے ، کچھ گیت نہیں ، بازگشت ، سنچاری" ۔ ان میں سے " کچھ گیت نہیں " عنوان کے تحت جو کلام پیش کیا گیا ہے وہ شاعر کے بعض ایسے تجربے ہیں جن میں شاعری کے معین اصولوں سے گریز دکھائی دیتا ہے۔ اس کا پہلا حصہ " اپنے من کے گیت" کو پڑھ کر لگتا ہے کہ لکھنے والے کی ذاتی زندگی سے متعلق گیت ہیں۔ اس کے بعد " پرائے دھن کے گیت" ایک ایسے ستارے سے متعلق ہے جو چند دنوں کے لئے شاعر کے افق پر نمودار ہوتا ہے اور پھر غائب ہو جاتا ہے۔ غالباً اسی ستارے کی یاد میں شاعر نے مجنویت والی رہن سہن اپنا لی تھی۔ مجموعہ کے آغاز سے قبل " گیت کی ریت" کے عنوان سے جامع مضمون ہے جسے مجموعہ سے قبل پڑھ لیا جائے تومجموعے کی قرآت کی لذت دوبالا ہو جائے گی۔
मीराजी उर्दू के उन शायरों में शुमार होते हैं जिन्होंने अलामती शायरी को नया अंदाज़ और फ़रोग़ दिया। नून मीम राशिद का मानना था कि मीराजी महज़ शायर नहीं बल्कि एक अदबी मज़हर थे।
मीराजी का असल नाम मोहम्मद सनाउल्लाह डार था। उनकी पैदाइश 25 मई 1912 को लाहौर में हुई। कश्मीरी मूल के ख़ानदान से तअल्लुक़ रखने वाले मीराजी ने इल्मी-ओ-अदबी माहौल में परवरिश पाई। इब्तिदाई तालीम के बाद वो अदबी दुनिया के मारूफ़ जरीदे “अदबी दुनिया” से मुंसलिक हुए, जहाँ उन्होंने मज़ामीन लिखे और मशरिक़-ओ-मग़रिब के शायरों के तराजुम किए।
मीराजी की शायरी इंसानी शुऊर और तहतुश्शुऊर की कैफ़ियतों को नई ज़बान और अलामतों के ज़रीए पेश करती है। उनके कलाम में हिन्दुस्तानी तहज़ीब की झलक नुमायाँ है। उनकी तख़लीक़ात में 223 नज़्में, 136 गीत, 17 ग़ज़लें और मुख़्तलिफ़ तराजुम शामिल हैं। 3 नवंबर 1949 को बंबई में उनका इंतिक़ाल हुआ, मगर उनकी शायरी आज भी उर्दू अदब में एक मुन्फ़रिद मक़ाम रखती है।