aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
مظفر وارثی اردوشاعری کی تاریخ کا اہم ستون اور اردو نعت کا انتہائی معتبر نام ہیں۔ انھوں نے ہر صنف شعرغزل ، نظم ، حمد ، نعت وسلام ، گیت ، قطعات اور ہائیکووغیرہ میں طبع آزمائی کی ہے۔ مظفر وارثی کی شاعری اپنے منفرد اسلوب اور موضوعات کے تنوع کے باعث پیش منظر کے شاعروں کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ اردوکے نامورشاعرجناب احسان دانش نے لکھا تھا ، "نئی طرز کے لکھنے والوں میں جدید غزل کا معیار مظفر وارثی کی غزل سے قائم ہوتا ہے۔زیر نظر کتاب"ستاروں کی آبجو"میں ان کے ادبی ،حمدیہ ، نعتیہ اور اصلاحی قطعات شامل ہیں۔