اب عیادت کو مری کوئی نہیں آئے گا

سلام ؔمچھلی شہری

اب عیادت کو مری کوئی نہیں آئے گا

سلام ؔمچھلی شہری

MORE BYسلام ؔمچھلی شہری

    اب عیادت کو مری کوئی نہیں آئے گا

    پھر ہوں بیمار کسی کو نہ یقیں آئے گا

    غم مسلسل ہو تو احباب بچھڑ جاتے ہیں

    اب نہ کوئی دل تنہا کے قریں آئے گا

    اپنے خوابوں کے دریچوں میں جلا لو شمعیں

    اور یہ سوچ لو اک ماہ جبیں آئے گا

    پھر نگار چمن وادئ فردائے بہار

    گل بدست مہ و انجم بہ جبیں آئے گا

    ذہن تازہ کے لیے ساز حقیقت چھیڑو

    چین اسے صرف تخیل سے کہیں آئے گا

    صرف اپنے ہی عزائم پہ بھروسہ کر لے

    کام کوئی بھی نہ اے قلب حزیں آئے گا

    روز پوجا کے لئے پھول سجاتا ہے سلامؔ

    جانے کب اس کا خدا سوئے زمیں آئے گا

    مآخذ
    • کتاب : Intekhab-e-Kalam Salam Machhli Shahri (Pg. 101)
    • Author : Irfaan Abbasii
    • مطبع : 1991 (Uttarpradesh, Urdu academy, Lucknow )
    • اشاعت : Uttarpradesh, Urdu academy, Lucknow
    • کتاب : Intekhab-e-Kalam Salam Machhli Shahri (Pg. 101)
    • Author : Irfaan Abbasii
    • مطبع : 1991 (Uttarpradesh, Urdu academy, Lucknow )
    • اشاعت : Uttarpradesh, Urdu academy, Lucknow

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY