اور تو خیر کیا رہ گیا

اجمل سراج

اور تو خیر کیا رہ گیا

اجمل سراج

MORE BYاجمل سراج

    اور تو خیر کیا رہ گیا

    ہاں مگر اک خلا رہ گیا

    غم سبھی دل سے رخصت ہوئے

    درد بے انتہا رہ گیا

    زخم سب مندمل ہو گئے

    اک دریچہ کھلا رہ گیا

    رنگ جانے کہاں اڑ گئے

    صرف اک داغ سا رہ گیا

    آرزوؤں کا مرکز تھا دل

    حسرتوں میں گھرا رہ گیا

    رہ گیا دل میں اک درد سا

    دل میں اک درد سا رہ گیا

    زندگی سے تعلق مرا

    ٹوٹ کر بھی جڑا رہ گیا

    ہم بھی آخر پشیماں ہوئے

    آپ کو بھی گلا رہ گیا

    کوئی مہمان آیا نہیں

    گھر ہمارا سجا رہ گیا

    اس نے پوچھا تھا کیا حال ہے

    اور میں سوچتا رہ گیا

    جام کیا کیا نہ خالی ہوئے

    درد سے دل بھرا رہ گیا

    کس کو چھوڑا خزاں نے مگر

    زخم دل کا ہرا رہ گیا

    یہ بھی کچھ کم نہیں ہے کہ دل

    گرد غم سے اٹا رہ گیا

    کام اجملؔ بہت تھے ہمیں

    ہاتھ دل پر دھرا رہ گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY