دیدنی ہے ہماری زیبائی

سلیم احمد

دیدنی ہے ہماری زیبائی

سلیم احمد

MORE BYسلیم احمد

    دیدنی ہے ہماری زیبائی

    ہم کہ ہیں حسن کے تمنائی

    بس یہ ہے انتہا تعلق کی

    ذکر پر ان کے آنکھ بھر آئی

    تو نہ کر اپنی محفلوں کو اداس

    راس ہے ہم کو رنج تنہائی

    ہم تو کہہ دیں سلیمؔ حال ترا

    کب وہاں ہے کسی کی شنوائی

    اور تو کیا دیا بہاروں نے

    بس یہی چار دن کی رسوائی

    ہم کو کیا کام رنگ محفل سے

    ہم تو ہیں دور کے تماشائی

    وہ جنوں کو بڑھائے جائیں گے

    ان کی شہرت ہے میری رسوائی

    معتقد ہیں ہماری وحشت کے

    شہر میں جس قدر ہیں سودائی

    عشق صاحب نے دل پہ دستک دی

    آئیے مرشدی و مولائی

    یہ زمانے کا جبر ہے کہ سلیمؔ

    ہو کے میرے بنے ہیں سودائی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY