گردش ارض و سماوات نے جینے نہ دیا

کیف بھوپالی

گردش ارض و سماوات نے جینے نہ دیا

کیف بھوپالی

MORE BYکیف بھوپالی

    گردش ارض و سماوات نے جینے نہ دیا

    کٹ گیا دن تو ہمیں رات نے جینے نہ دیا

    کچھ محبت کو نہ تھا چین سے رکھنا منظور

    اور کچھ ان کی عنایات نے جینے نہ دیا

    حادثہ ہے کہ ترے سر پہ نہ الزام آیا

    واقعہ ہے کہ تری ذات نے جینے نہ دیا

    کیفؔ کے بھولنے والے کو خبر ہو کہ اسے

    صدمہ ترک ملاقات نے جینے نہ دیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY