ہمیں تو خواہش دنیا نے رسوا کر دیا ہے

حسن عباس رضا

ہمیں تو خواہش دنیا نے رسوا کر دیا ہے

حسن عباس رضا

MORE BYحسن عباس رضا

    ہمیں تو خواہش دنیا نے رسوا کر دیا ہے

    بہت تنہا تھے اس نے اور تنہا کر دیا ہے

    اب اکثر آئینے میں اپنا چہرہ ڈھونڈتے ہیں

    ہم ایسے تو نہیں تھے تو نے جیسا کر دیا ہے

    دھڑکتی قربتوں کے خواب سے جاگے تو جانا

    ذرا سے وصل نے کتنا اکیلا کر دیا ہے

    اگرچہ دل میں گنجائش نہیں تھی پھر بھی ہم نے

    ترے غم کے لیے اس کو کشادہ کر دیا ہے

    ترے دکھ میں ہمارے بال چاندی ہو گئے ہیں

    اور اس چاندی نے قبل از وقت بوڑھا کر دیا ہے

    تعلق توڑنے میں پہل مشکل مرحلہ تھا

    چلو ہم نے تمہارا بوجھ ہلکا کر دیا ہے

    غم دنیا غم جاں سے جدا ہونے لگا تھا

    حسنؔ ہم نے مگر دونوں کو یکجا کر دیا ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Need Musafir (Pg. 25)
    • Author : Hasan Abbas Raza
    • مطبع : Doost Publications, Islamabad (1996)
    • اشاعت : 1996

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے