Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہر لمحہ اگر گریز پا ہے

احمد ندیم قاسمی

ہر لمحہ اگر گریز پا ہے

احمد ندیم قاسمی

MORE BYاحمد ندیم قاسمی

    ہر لمحہ اگر گریز پا ہے

    تو کیوں مرے دل میں بس گیا ہے

    چلمن میں گلاب سنبھل رہا ہے

    یہ تو ہے کہ شوخی صبا ہے

    جھکتی نظریں بتا رہی ہیں

    میرے لیے تو بھی سوچتا ہے

    میں تیرے کہے سے چپ ہوں لیکن

    چپ بھی تو بیان مدعا ہے

    ہر دیس کی اپنی اپنی بولی

    صحرا کا سکوت بھی صدا ہے

    اک عمر کے بعد مسکرا کر

    تو نے تو مجھے رلا دیا ہے

    اس وقت کا حساب کیا دوں

    جو تیرے بغیر کٹ گیا ہے

    ماضی کی سناؤں کیا کہانی

    لمحہ لمحہ گزر گیا ہے

    مت مانگ دعائیں جب محبت

    تیرا میرا معاملہ ہے

    اب تجھ سے جو ربط ہے تو اتنا

    تیرا ہی خدا مرا خدا ہے

    رونے کو اب اشک بھی نہیں ہیں

    یا عشق کو صبر آ گیا ہے

    اب کس کی تلاش میں ہیں جھونکے

    میں نے تو دیا بجھا دیا ہے

    کچھ کھیل نہیں ہے عشق کرنا

    یہ زندگی بھر کا رت جگا ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    احمد ندیم قاسمی

    احمد ندیم قاسمی

    RECITATIONS

    احمد ندیم قاسمی

    احمد ندیم قاسمی,

    احمد ندیم قاسمی

    ہر لمحہ اگر گریز پا ہے احمد ندیم قاسمی

    یہ متن درج ذیل زمرے میں بھی شامل ہے

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے