Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے

علامہ اقبال

مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے

علامہ اقبال

MORE BYعلامہ اقبال

    دلچسپ معلومات

    حصہ اول : 1905 تک ( بانگ درا)

    مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے

    نظارے کی ہوس ہو تو لیلیٰ بھی چھوڑ دے

    واعظ کمال ترک سے ملتی ہے یاں مراد

    دنیا جو چھوڑ دی ہے تو عقبیٰ بھی چھوڑ دے

    تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خودکشی

    رستہ بھی ڈھونڈ خضر کا سودا بھی چھوڑ دے

    مانند خامہ تیری زباں پر ہے حرف غیر

    بیگانہ شے پہ نازش بے جا بھی چھوڑ دے

    لطف کلام کیا جو نہ ہو دل میں درد عشق

    بسمل نہیں ہے تو تو تڑپنا بھی چھوڑ دے

    شبنم کی طرح پھولوں پہ رو اور چمن سے چل

    اس باغ میں قیام کا سودا بھی چھوڑ دے

    ہے عاشقی میں رسم الگ سب سے بیٹھنا

    بت خانہ بھی حرم بھی کلیسا بھی چھوڑ دے

    سوداگری نہیں یہ عبادت خدا کی ہے

    اے بے خبر جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے

    اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل

    لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

    جینا وہ کیا جو ہو نفس غیر پر مدار

    شہرت کی زندگی کا بھروسا بھی چھوڑ دے

    شوخی سی ہے سوال مکرر میں اے کلیم

    شرط رضا یہ ہے کہ تقاضا بھی چھوڑ دے

    واعظ ثبوت لائے جو مے کے جواز میں

    اقبالؔ کو یہ ضد ہے کہ پینا بھی چھوڑ دے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    ضیا محی الدین

    ضیا محی الدین

    موضوعات

    یہ متن درج ذیل زمرے میں بھی شامل ہے

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے