اس باغ میں وہ سنگ کے قابل کہا نہ جائے

مجروح سلطانپوری

اس باغ میں وہ سنگ کے قابل کہا نہ جائے

مجروح سلطانپوری

MORE BY مجروح سلطانپوری

    اس باغ میں وہ سنگ کے قابل کہا نہ جائے

    جب تک کسی ثمر کو مرا دل کہا نہ جائے

    شاخوں پہ نوک تیغ سے کیا کیا کھلے ہیں پھول

    انداز لالہ کاریٔ قاتل کہا نہ جائے

    کس کے لہو کے رنگ ہیں یہ خار شوخ رنگ

    کیا گل کتر گئی رہ منزل کہا نہ جائے

    باراں کے منتظر ہیں سمندر پہ تشنہ لب

    احوال میزبانیٔ ساحل کہا نہ جائے

    میرے ہی سنگ و خشت سے تعمیر بام و در

    میرے ہی گھر کو شہر میں شامل کہا نہ جائے

    زنداں کھلا ہے جب سے ہوئے ہیں رہا اسیر

    ہر گام ہے وہ شور سلاسل کہا نہ جائے

    ہم اہل عشق میں نہیں حرف گنہ سے کم

    وہ حرف شوق جو سر محفل کہا نہ جائے

    جس ہاتھ میں ہے تیغ جفا اس کا نام لو

    مجروحؔ سے تو سائے کو قاتل کہا نہ جائے

    مآخذ:

    • کتاب : kulliyat-e- Majruuh sultanpuri (Pg. 149)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY