کانچ کے پیچھے چاند بھی تھا اور کانچ کے اوپر کائی بھی

گلزار

کانچ کے پیچھے چاند بھی تھا اور کانچ کے اوپر کائی بھی

گلزار

MORE BY گلزار

    کانچ کے پیچھے چاند بھی تھا اور کانچ کے اوپر کائی بھی

    تینوں تھے ہم وہ بھی تھے اور میں بھی تھا تنہائی بھی

    یادوں کی بوچھاروں سے جب پلکیں بھیگنے لگتی ہیں

    سوندھی سوندھی لگتی ہے تب ماضی کی رسوائی بھی

    دو دو شکلیں دکھتی ہیں اس بہکے سے آئینے میں

    میرے ساتھ چلا آیا ہے آپ کا اک سودائی بھی

    کتنی جلدی میلی کرتا ہے پوشاکیں روز فلک

    صبح ہی رات اتاری تھی اور شام کو شب پہنائی بھی

    خاموشی کا حاصل بھی اک لمبی سی خاموشی تھی

    ان کی بات سنی بھی ہم نے اپنی بات سنائی بھی

    کل ساحل پر لیٹے لیٹے کتنی ساری باتیں کیں

    آپ کا ہنکارا نہ آیا چاند نے بات کرائی بھی

    مآخذ:

    • Book : Yaar Julahe (Pg. 164)
    • Author : Yatindra Mishra
    • مطبع : Vaniprakashan (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY