سسکیاں لیتی ہوئی غمگیں ہواؤ چپ رہو

قتیل شفائی

سسکیاں لیتی ہوئی غمگیں ہواؤ چپ رہو

قتیل شفائی

MORE BYقتیل شفائی

    سسکیاں لیتی ہوئی غمگیں ہواؤ چپ رہو

    سو رہے ہیں درد ان کو مت جگاؤ چپ رہو

    رات کا پتھر نہ پگھلے گا شعاعوں کے بغیر

    صبح ہونے تک نہ بولو ہم نواؤ چپ رہو

    بند ہیں سب مے کدے ساقی بنے ہیں محتسب

    اے گرجتی گونجتی کالی گھٹاؤ چپ رہو

    تم کو ہے معلوم آخر کون سا موسم ہے یہ

    فصل گل آنے تلک اے خوش نواؤ چپ رہو

    سوچ کی دیوار سے لگ کر ہیں غم بیٹھے ہوئے

    دل میں بھی نغمہ نہ کوئی گنگناؤ چپ رہو

    چھٹ گئے حالات کے بادل تو دیکھا جائے گا

    وقت سے پہلے اندھیرے میں نہ جاؤ چپ رہو

    دیکھ لینا گھر سے نکلے گا نہ ہم سایہ کوئی

    اے مرے یارو مرے درد آشناؤ چپ رہو

    کیوں شریک غم بناتے ہو کسی کو اے قتیلؔ

    اپنی سولی اپنے کاندھے پر اٹھاؤ چپ رہو

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY