مری آنکھوں سے ہجرت کا وہ منظر کیوں نہیں جاتا

پربدھ سوربھ

مری آنکھوں سے ہجرت کا وہ منظر کیوں نہیں جاتا

پربدھ سوربھ

MORE BYپربدھ سوربھ

    مری آنکھوں سے ہجرت کا وہ منظر کیوں نہیں جاتا

    بچھڑ کر بھی بچھڑ جانے کا یہ ڈر کیوں نہیں جاتا

    اگر یہ زخم بھرنا ہے تو پھر بھر کیوں نہیں جاتا

    اگر یہ جان لیوا ہے تو میں مر کیوں نہیں جاتا

    اگر تو دوست ہے تو پھر یہ خنجر کیوں ہے ہاتھوں میں

    اگر دشمن ہے تو آخر مرا سر کیوں نہیں جاتا

    بتاؤں کس حوالے سے انہیں بیراگ کا مطلب

    جو تارے پوچھتے ہیں رات کو گھر کیوں نہیں جاتا

    ذرا فرصت ملے قسمت کی چوسر سے تو سوچوں گا

    کہ خواہش اور حاصل کا یہ انتر کیوں نہیں جاتا

    مرے سارے رقیبوں نے زمینیں چھوڑ دیں کب کی

    مگر اشعار سے میرے وہ تیور کیوں نہیں جاتا

    مجھے بے چین کرتے ہیں یہ دل کے ان گنت دھبے

    جو جاتا ہے وہ یادوں کو مٹا کر کیوں نہیں جاتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے