ہزاروں سائٹیں ایسی کہ ہر سائٹ پہ دم نکلے

شاہد جمیل

ہزاروں سائٹیں ایسی کہ ہر سائٹ پہ دم نکلے

شاہد جمیل

MORE BYشاہد جمیل

    ہزاروں سائٹیں ایسی کہ ہر سائٹ پہ دم نکلے

    نہ پوچھو کس طرح پھر سائبر کیفے سے ہم نکلے

    سب عاشق تھک گئے اپلوڈ کر کے اپنی سائٹ پر

    وصال یار کی سی ڈی میں سو سو پیچ و خم نکلے

    وہاں اب ہر طرف کمپیوٹروں کے چوہے پھرتے ہیں

    مرے لکھنے کے کمرے سے سبھی کاغذ قلم نکلے

    عدو کا پاسورڈ اف کس بلا کا پیرہن نکلا

    غضب کی جلوہ آرائی میں شیشے کے صنم نکلے

    ہمیں سائٹ نوردی کو تو گوگل جام جم ٹھہرا

    جہاں بینی کو اب کیونکر یہ کمرے سے قدم نکلے

    قیامت خیز چیٹنگ میں ہلاکت خیز ہیکنگ تھی

    سو اپنی پاس بک میں ڈھیر سے اعداد کم نکلے

    بلاگنگ کی قسم بد قسمتی کیا وائرس نکلی

    خوشی کی ڈاؤن لوڈنگ کی الم کے زیر و بم نکلے

    رقیب و یار کی ٹیوننگ کہاں چل کر کہاں پہنچی

    بر آمد جنک میلوں میں مرکب پیچ و خم نکلے

    خوشا اے وادیٔ سرفنگ بہ چشم شاہدؔ حیراں

    ہمارے بائی فوکل میں غضب کے زیر و بم نکلے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے