سب جھاڑ پھونک سیکھ گئے شیخ جی سے ہم

بازغ بہاری

سب جھاڑ پھونک سیکھ گئے شیخ جی سے ہم

بازغ بہاری

MORE BYبازغ بہاری

    سب جھاڑ پھونک سیکھ گئے شیخ جی سے ہم

    مرغے کو ذبح کرتے ہیں الٹی چھری سے ہم

    بچپن میں کیا اٹیک کیا تھا زکام نے

    پرہیز کر رہے ہیں ابھی تک دہی سے ہم

    ہیبٹ کچھ اس طرح ہوئی کھا کھا کے ڈالڈا

    جز بز سے ہونے لگتے ہیں خوشبوئے گھی سے ہم

    منہ اپنا ایک بار جلا تھا جو دودھ سے

    پینے لگے ہیں پھونک کے مٹھا تبھی سے ہم

    جس شاعری سے شیخ ہیں فاقے میں مبتلا

    روزی کما رہے ہیں اسی شاعری سے ہم

    خوشبو مرغ آتی ہے ہر لفظ لفظ سے

    کرتے ہیں گفتگو جو کسی مولوی سے ہم

    آنے دو وقت تم کو چکھائیں گے وہ مزہ

    اس ضمن میں بتائیں بھلا کیا ابھی سے ہم

    جب سے ہوا ہے محفل بازغؔ سے رابطہ

    ناگاہ کٹ گئے ہیں سبھا میں سبھی سے ہم

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے