تمہارے مسئلے کیا ہیں ذرا ہم پر عیاں کرتے

بازغ بہاری

تمہارے مسئلے کیا ہیں ذرا ہم پر عیاں کرتے

بازغ بہاری

MORE BYبازغ بہاری

    تمہارے مسئلے کیا ہیں ذرا ہم پر عیاں کرتے

    کہیں سے تم بیاں کرتے کہیں سے ہم بیاں کرتے

    چلو تم نے کہی جو بات وہ ہم مان لیتے ہیں

    مگر ہم اپنی باتیں کس طرح تم پر عیاں کرتے

    کبھی تو جھانک کر دیکھو ذرا اپنے گریباں میں

    ہماری سمت اس کے بعد تم نوک سناں کرتے

    الجھ پڑتے ہو تم اپنے بزرگوں سے ارے توبہ

    ذرا بھی شرم آنی چاہئے لمبی زباں کرتے

    بڑا احسان ہے بیگم سدھارا آپ نے مجھ کو

    وگرنہ زندگی کٹتی مری خر مستیاں کرتے

    وہ کتنی جھڑکیاں کھاتے ہیں صبح و شام بیوی کی

    مگر واعظ کو دیکھا آپ نے آہ و فغاں کرتے

    تمہارے قریۂ جاں میں ہماری بادشاہت ہے

    مگر دیکھا کسی نے ہم کو سیر گلستاں کرتے

    مأخذ :

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے