نگاہ ناز کا اک وار کر کے چھوڑ دیا

شکیل بدایونی

نگاہ ناز کا اک وار کر کے چھوڑ دیا

شکیل بدایونی

MORE BYشکیل بدایونی

    نگاہ ناز کا اک وار کر کے چھوڑ دیا

    دل حریف کو بیدار کر کے چھوڑ دیا

    ہوئی تو ہے یوں ہی تردید عہد لطف و کرم

    دبی زبان سے اقرار کر کے چھوڑ دیا

    چھپے کچھ ایسے کہ تا زیست پھر نہ آئے نظر

    رہین حسرت دیدار کر کے چھوڑ دیا

    مجھے تو قید محبت عزیز تھی لیکن

    کسی نے مجھ کو گرفتار کر کے چھوڑ دیا

    نظر کو جرأت تکمیل بندگی نہ ہوئی

    طواف کوچۂ دلدار کر کے چھوڑ دیا

    خوشا وہ کشمکش ربط باہمی جس نے

    دل و دماغ کو بیکار کر کے چھوڑ دیا

    زہے نصیب کہ دنیا نے تیرے غم نے مجھے

    مسرتوں کا طلب گار کر کے چھوڑ دیا

    کرم کی آس میں اب کس کے در پہ جائے شکیلؔ

    جب آپ ہی نے گنہ گار کر کے چھوڑ دیا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نگاہ ناز کا اک وار کر کے چھوڑ دیا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY