پا بہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کون

پروین شاکر

پا بہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کون

پروین شاکر

MORE BYپروین شاکر

    پا بہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کون

    دست بستہ شہر میں کھولے مری زنجیر کون

    میرا سر حاضر ہے لیکن میرا منصف دیکھ لے

    کر رہا ہے میری فرد جرم کو تحریر کون

    آج دروازوں پہ دستک جانی پہچانی سی ہے

    آج میرے نام لاتا ہے مری تعزیر کون

    کوئی مقتل کو گیا تھا مدتوں پہلے مگر

    ہے در خیمہ پہ اب تک صورت تصویر کون

    میری چادر تو چھنی تھی شام کی تنہائی میں

    بے ردائی کو مری پھر دے گیا تشہیر کون

    سچ جہاں پابستہ ملزم کے کٹہرے میں ملے

    اس عدالت میں سنے گا عدل کی تفسیر کون

    نیند جب خوابوں سے پیاری ہو تو ایسے عہد میں

    خواب دیکھے کون اور خوابوں کو دے تعبیر کون

    ریت ابھی پچھلے مکانوں کی نہ واپس آئی تھی

    پھر لب ساحل گھروندا کر گیا تعمیر کون

    سارے رشتے ہجرتوں میں ساتھ دیتے ہیں تو پھر

    شہر سے جاتے ہوئے ہوتا ہے دامن گیر کون

    دشمنوں کے ساتھ میرے دوست بھی آزاد ہیں

    دیکھنا ہے کھینچتا ہے مجھ پہ پہلا تیر کون

    RECITATIONS

    پروین شاکر

    پروین شاکر

    صبیحہ خان

    صبیحہ خان

    پروین شاکر

    پا بہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کون پروین شاکر

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY