لباس تن پہ سلامت ہیں ہاتھ خالی ہیں

محسن احسان

لباس تن پہ سلامت ہیں ہاتھ خالی ہیں

محسن احسان

MORE BY محسن احسان

    لباس تن پہ سلامت ہیں ہاتھ خالی ہیں

    ہم ایک ملک خدا داد کے سوالی ہیں

    نہ ہم میں عقل و فراست نہ حکمت و تدبیر

    مگر ہے زعم کہ جمعیت مثالی ہیں

    منافقت نے لہو تن میں اتنا گرمایا

    کہ گفتگو میں ریا کاریاں سجا لی ہیں

    خود اپنے آپ سے کد اس قدر ہمیں ہے کہ اب

    روایتیں ہی گلستاں کی پھونک ڈالی ہیں

    ہمارے دل ہیں اب آماج گاہ حرص و ہوس

    کہ ہم نے سینوں میں تاریکیاں اگا لی ہیں

    نشیمنوں کو اجاڑا کچھ اس طرح جیسے

    کہ فاختائیں درختوں سے اڑنے والی ہیں

    کسی غریب اپاہج فقیر کی محسنؔ

    کسی امیر نے بیساکھیاں چرا لی ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY