سامنے جی سنبھال کر رکھنا

رسا چغتائی

سامنے جی سنبھال کر رکھنا

رسا چغتائی

MORE BYرسا چغتائی

    سامنے جی سنبھال کر رکھنا

    پھر وہی اپنا حال کر رکھنا

    آ گئے ہو تو اس خرابے میں

    اب قدم دیکھ بھال کر رکھنا

    شام ہی سے برس رہی ہے رات

    رنگ اپنے سنبھال کر رکھنا

    عشق کار پیمبرانہ ہے

    جس کو چھونا مثال کر رکھنا

    کشت کرنا محبتیں اور پھر

    خود اسے پائمال کر رکھنا

    روز جانا اداس گلیوں میں

    روز خود کو نڈھال کر رکھنا

    سخت مشکل ہے آئنوں سے رساؔ

    واہموں کو نکال کر رکھنا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY