کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی سو میں نے جیون وار دیا

عبید اللہ علیم

کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی سو میں نے جیون وار دیا

عبید اللہ علیم

MORE BYعبید اللہ علیم

    کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی سو میں نے جیون وار دیا

    میں کیسا زندہ آدمی تھا اک شخص نے مجھ کو مار دیا

    اک سبز شاخ گلاب کی تھا اک دنیا اپنے خواب کی تھا

    وہ ایک بہار جو آئی نہیں اس کے لیے سب کچھ ہار دیا

    یہ سجا سجایا گھر ساتھی مری ذات نہیں مرا حال نہیں

    اے کاش کبھی تم جان سکو جو اس سکھ نے آزار دیا

    میں کھلی ہوئی اک سچائی مجھے جاننے والے جانتے ہیں

    میں نے کن لوگوں سے نفرت کی اور کن لوگوں کو پیار دیا

    وہ عشق بہت مشکل تھا مگر آسان نہ تھا یوں جینا بھی

    اس عشق نے زندہ رہنے کا مجھے ظرف دیا پندار دیا

    میں روتا ہوں اور آسمان سے تارے ٹوٹتے دیکھتا ہوں

    ان لوگوں پر جن لوگوں نے مرے لوگوں کو آزار دیا

    مرے بچوں کو اللہ رکھے ان تازہ ہوا کے جھونکوں نے

    میں خشک پیڑ خزاں کا تھا مجھے کیسا برگ و بار دیا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    عبید اللہ علیم

    عبید اللہ علیم

    فریدہ خانم

    فریدہ خانم

    RECITATIONS

    عاطر علی سید

    عاطر علی سید,

    عاطر علی سید

    کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی سو میں نے جیون وار دیا عاطر علی سید

    مأخذ :
    • کتاب : Veeran sarai ka diya (Pg. 19)
    • Author : Obaidullah Aleem
    • مطبع : welcome book port (2012)
    • اشاعت : 2012

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے