سپنے کی وادی کو تج کر روپ نگر میں آیا کر

ماجد الباقری

سپنے کی وادی کو تج کر روپ نگر میں آیا کر

ماجد الباقری

MORE BYماجد الباقری

    سپنے کی وادی کو تج کر روپ نگر میں آیا کر

    دن کے پھیلے کاغذ پر اپنی تصویر بنایا کر

    دھوپ کڑی ہے ننگا سر ہی صحراؤں سے گزروں گا

    اپنے دوپٹے کے پلو کا میرے سر پر سایا کر

    ایک سمندر کی موجوں کو ایک بھنور میں رہنے دے

    نیلی آنکھوں کے ساگر کو ایسے مت چھلکایا کر

    ہونٹ کی سرخی جھانک اٹھتی ہے شیشے کے پیمانوں سے

    مٹی کے برتن میں پانی پی کر پیاس بجھایا کر

    دل کی آوازوں کا گنبد آبادی میں پھٹتا ہے

    دور کسی خاموش کنویں میں منہ لٹکا کر گایا کر

    بیس برس سے اک تارے پر من کی جوت جگاتا ہوں

    دیوالی کی رات کو تو بھی کوئی دیا جلایا کر

    ماجدؔ نے بیراگ لیا ہے کوئی ایسی بات نہیں

    ادھر ادھر کی باتیں کر کے لوگوں کو سمجھایا کر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے