Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اگر دشمن کی تھوڑی سی مرمت اور ہو جاتی

بوم میرٹھی

اگر دشمن کی تھوڑی سی مرمت اور ہو جاتی

بوم میرٹھی

MORE BYبوم میرٹھی

    اگر دشمن کی تھوڑی سی مرمت اور ہو جاتی

    تو پھر الو کے پٹھے کو نصیحت اور ہو جاتی

    شب وعدہ میں ان کی کمسنی سے ڈر گیا ورنہ

    ذرا سی بات پر نازل مصیبت اور ہو جاتی

    یہی اچھا ہوا تو نے جو زلفوں کو منڈا ڈالا

    نہیں تو تیرے دیوانوں کی حالت اور ہو جاتی

    اگر تم نیم عریاں حشر کے میداں میں آ جاتے

    قیامت میں پھر اک برپا قیامت اور ہو جاتی

    شراب ناب کی کرتا مذمت پھر نہ بھولے سے

    جو مے خانہ میں واعظ کی مرمت اور ہو جاتی

    نہ ان کی کمسنی سے میں سزا پاتا عدالت سے

    جو ان کے آشناؤں کی شہادت اور ہو جاتی

    لگا کرتی ہزاروں عاشقوں کو بے خطا پھانسی

    حسینوں کی اگر گھر کی عدالت اور ہو جاتی

    خطا پیشاب دشمن کا ہوا گھر ان کے پٹنے سے

    مزہ جب تھا کہ سالے کو اجابت اور ہو جاتی

    ہمیں چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے گرانی نے

    میرے اللہ یہ دنیا سے غارت اور ہو جاتی

    اگر بوسہ دیا ہے وصل کا وعدہ بھی کر لیجے

    عنایت کی تو تھوڑی سی عنایت اور ہو جاتی

    اگر دل کو بچاتا میں نہ زلفوں کے اڑنگے سے

    تو دنیا بھر سے لمبی شام فرقت اور ہو جاتی

    دعا ہے بومؔ کی یا رب یہ کاٹن ملز کی بابت

    ترقی اور ہوتی زیب و زینت اور ہو جاتی

    موضوعات

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے