تھا قصد قتل غیر مگر میں طلب ہوا

ارشد علی خان قلق

تھا قصد قتل غیر مگر میں طلب ہوا

ارشد علی خان قلق

MORE BY ارشد علی خان قلق

    تھا قصد قتل غیر مگر میں طلب ہوا

    جلاد مہربان ہوا کیا سبب ہوا

    افسوس کچھ نہ میری رہائی کا ڈھب ہوا

    چھوٹا ادھر قفس سے ادھر میں طلب ہوا

    تشریف لائے آپ جو میں جاں بہ لب ہوا

    اس وقت کے بھی آنے کا مجھ کو عجب ہوا

    نکلے گی اب نہ حسرت قتل اے نگاہ یاس

    قاتل کو رحم آ گیا مجھ پر غضب ہوا

    ہو جائے گا کچھ اور ہی رنگ اہل حشر کا

    قاتل سے خوں بہا جو ہمارا طلب ہوا

    شاید بڑھائیں یار نے منت کی بیڑیاں

    اب کی مجھے جنوں نہ ہوا کیا سبب ہوا

    پنہاں تمام ظلمت کفر و ستم ہوئی

    طالع جوں ہی وہ مہر سپہر عرب ہوا

    ہم ڈوب جائیں گے عرق انفعال میں

    اعمال نامہ حشر میں جس دم طلب ہوا

    اتنا تو جذب دل نے دکھایا مجھے اثر

    چین اس کو بھی نہ آیا میں بیتاب جب ہوا

    روتے تھے عقل و ہوش ہی کو ہم تو عشق میں

    لو اب تو دل سے صبر بھی رخصت‌ طلب ہوا

    اے بے خودیٔ دل مجھے یہ بھی خبر نہیں

    کس دن بہار آئی میں دیوانہ کب ہوا

    شادی شب وصال کی ماتم ہوئی مجھے

    ہنگام صبح یار جو رخصت طلب ہوا

    بوسے دکھا دکھا کے ہمیں لے رہا ہے یہ

    کیوں اتنا بے لحاظ ترا خال لب ہوا

    کیا جان کر ملال دیے کب کا تھا غبار

    کس روز آسماں سے میں راحت طلب ہوا

    دنیا میں اے قلقؔ جو پر ارمان ہم رہے

    ناشاد نامراد ہمارا لقب ہوا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    تھا قصد قتل غیر مگر میں طلب ہوا نعمان شوق

    مآخذ:

    Mazhar-e-Ishq
    • Mazhar-e-Ishq

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY