تم چپ رہے پیام محبت یہی تو ہے

نامعلوم

تم چپ رہے پیام محبت یہی تو ہے

نامعلوم

MORE BYنامعلوم

    تم چپ رہے پیام محبت یہی تو ہے

    آنکھیں جھکیں نظر کی قیامت یہی تو ہے

    محفل میں لوگ چونک پڑے میرے نام پر

    تم مسکرا دئے مری قیمت یہی تو ہے

    تم پوچھتے ہو تم نے شکایت بھی کی کبھی

    سچ پوچھئے تو مجھ کو شکایت یہی تو ہے

    وعدے تھے بے شمار مگر اے مزاج یار

    ہم یاد کیا دلائیں نزاکت یہی تو ہے

    میرے طلب کی حد ہے نہ تیرے عطا کی حد

    مجھ کو ترے کرم کی ندامت یہی تو ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Junoon (Pg. 96)
    • Author : Naseem Muqri
    • مطبع : Naseem Muqri (1990)
    • اشاعت : 1990

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY