دکھ کی لہر نے چھیڑا ہوگا
دکھ کی لہر نے چھیڑا ہوگا
یاد نے کنکر پھینکا ہوگا
آج تو میرا دل کہتا ہے
تو اس وقت اکیلا ہوگا
میرے چومے ہوئے ہاتھوں سے
اوروں کو خط لکھتا ہوگا
بھیگ چلیں اب رات کی پلکیں
تو اب تھک کر سویا ہوگا
زرد کھجوروں کے جنگل میں
نور کا دریا بہتا ہوگا
ریل کی گہری سیٹی سن کر
رات کا جنگل گونجا ہوگا
شہر کے سونے اسٹیشن پر
کوئی مسافر اترا ہوگا
لمبی بل کھاتی گلیوں میں
اک سایا سا پھرتا ہوگا
آنگن میں پھر چڑیاں بولیں
تو اب سو کر اٹھا ہوگا
بال جھٹکتے آنکھیں ملتے
گھر کا دریچہ کھولا ہوگا
یادوں کی جلتی شبنم سے
پھول سا چہرا دھوتا ہوگا
موتی جیسی شکل بنا کر
آئینے کو تکتا ہوگا
دروازے پر دستک سن کر
تو کس ناز سے پہنچا ہوگا
میں نہ سہی کوئی مجھ سا پاگل
تجھ کو بلانے آیا ہوگا
دھیان میں تجھ کو دیکھ رہا ہوں
تو اب گھر سے نکلا ہوگا
بستی کے ملنے والوں سے
کیا کیا باتیں کرتا ہوگا
میں نے جنہیں کبھی منہ نہ لگایا
تو اب ان سے ملتا ہوگا
شام ہوئی اب تو بھی شاید
اپنے گھر کو لوٹا ہوگا
شام کے چلتے ہاتھ نے تجھ کو
میرا سلام تو بھیجا ہوگا
پیاسی کرلاتی کونجوں نے
میرا دکھ تو سنایا ہوگا
میرا ساتھی شام کا تارا
تجھ سے آنکھ ملاتا ہوگا
نیلی دھندھلی خاموشی میں
تاروں کی دھن سنتا ہوگا
میں تو آج بہت رویا ہوں
تو بھی شاید رویا ہوگا
ناصرؔ تیرا میت پرانا
تجھ کو یاد تو آتا ہوگا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.