یہ کہنا تو نہیں کافی کہ بس پیارے لگے ہم کو

احمد مشتاق

یہ کہنا تو نہیں کافی کہ بس پیارے لگے ہم کو

احمد مشتاق

MORE BY احمد مشتاق

    یہ کہنا تو نہیں کافی کہ بس پیارے لگے ہم کو

    انہیں کیسے بتائیں ہم کہ وہ کیسے لگے ہم کو

    مکیں تھے یا کسی کھوئی ہوئی جنت کی تصویریں

    مکاں اس شہر کے بھولے ہوئے سپنے لگے ہم کو

    ہم ان کو سوچ میں گم دیکھ کر واپس چلے آئے

    وہ اپنے دھیان میں بیٹھے ہوئے اچھے لگے ہم کو

    بہت شفاف تھے جب تک کہ مصروف تمنا تھے

    مگر اس کار دنیا میں بڑے دھبے لگے ہم کو

    جہاں تنہا ہوئے دل میں بھنور سے پڑنے لگتے ہیں

    اگرچہ مدتیں گزریں کنارے سے لگے ہم کو

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    یہ کہنا تو نہیں کافی کہ بس پیارے لگے ہم کو نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY