یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہے

افتخار عارف

یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہے

افتخار عارف

MORE BYافتخار عارف

    یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہے

    یہ شہر اب بھی اسی بے وفا کا لگتا ہے

    یہ تیرے میرے چراغوں کی ضد جہاں سے چلی

    وہیں کہیں سے علاقہ ہوا کا لگتا ہے

    دل ان کے ساتھ مگر تیغ اور شخص کے ساتھ

    یہ سلسلہ بھی کچھ اہل ریا کا لگتا ہے

    نئی گرہ نئے ناخن نئے مزاج کے قرض

    مگر یہ پیچ بہت ابتدا کا لگتا ہے

    کہاں میں اور کہاں فیضان نغمہ و آہنگ

    کرشمہ سب در و بست نوا کا لگتا ہے

    RECITATIONS

    افتخار عارف

    افتخار عارف

    افتخار عارف

    یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہے افتخار عارف

    مأخذ :
    • کتاب : Mahr-e-Do Neem (Pg. 173)
    • Author : iftikhaar aarif
    • مطبع : Educational Publishing House (1999)
    • اشاعت : 1999

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY