زمیں سے رشتۂ دیوار و در بھی رکھنا ہے

فاطمہ حسن

زمیں سے رشتۂ دیوار و در بھی رکھنا ہے

فاطمہ حسن

MORE BYفاطمہ حسن

    زمیں سے رشتۂ دیوار و در بھی رکھنا ہے

    سنوارنے کے لیے اپنا گھر بھی رکھنا ہے

    ہوا سے آگ سے پانی سے متصل رہ کر

    انہیں سے اپنی تباہی کا ڈر بھی رکھنا ہے

    مکاں بناتے ہوئے چھت بہت ضروری ہے

    بچا کے صحن میں لیکن شجر بھی رکھنا ہے

    یہ کیا سفر کے لیے ہجرتیں جواز بنیں

    جو واپسی کا ہو ایسا سفر بھی رکھنا ہے

    ہماری نسل سنورتی ہے دیکھ کر ہم کو

    سو اپنے آپ کو شفاف تر بھی رکھنا ہے

    ہوا کے رخ کو بدلنا اگر نہیں ممکن

    ہوا کی زد پہ سفر کا ہنر بھی رکھنا ہے

    نشان راہ سے بڑھ کر ہیں خواب منزل کے

    انہیں بچانا ہے اور راہ پر بھی رکھنا ہے

    جواز کچھ بھی ہو اتنا تو سب ہی جانتے ہیں

    سفر کے ساتھ جواز سفر بھی رکھنا ہے

    RECITATIONS

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    Zamin se rishta-o-diwar-o-dar bhi rakhna hai عذرا نقوی

    مأخذ :
    • کتاب : yadain bhi ab khwab hoin (Pg. 84)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY