زندگی کیا ہوئے وہ اپنے زمانے والے

اختر سعید خان

زندگی کیا ہوئے وہ اپنے زمانے والے

اختر سعید خان

MORE BY اختر سعید خان

    زندگی کیا ہوئے وہ اپنے زمانے والے

    یاد آتے ہیں بہت دل کو دکھانے والے

    راستے چپ ہیں نسیم سحری بھی چپ ہے

    جانے کس سمت گئے ٹھوکریں کھانے والے

    اجنبی بن کے نہ مل عمر گریزاں ہم سے

    تھے کبھی ہم بھی ترے ناز اٹھانے والے

    آ کہ میں دیکھ لوں کھویا ہوا چہرہ اپنا

    مجھ سے چھپ کر مری تصویر بنانے والے

    ہم تو اک دن نہ جیے اپنی خوشی سے اے دل

    اور ہوں گے ترے احسان اٹھانے والے

    دل سے اٹھتے ہوئے شعلوں کو کہاں لے جائیں

    اپنے ہر زخم کو پہلو میں چھپانے والے

    نکہت صبح چمن بھول نہ جانا کہ تجھے

    تھے ہمیں نیند سے ہر روز جگانے والے

    ہنس کے اب دیکھتے ہیں چاک گریباں میرا

    اپنے آنسو مرے دامن میں چھپانے والے

    کس سے پوچھوں یہ سیہ رات کٹے گی کس دن

    سو گئے جا کے کہاں خواب دکھانے والے

    ہر قدم دور ہوئی جاتی ہے منزل ہم سے

    راہ گم کردہ ہیں خود راہ دکھانے والے

    اب جو روتے ہیں مرے حال زبوں پر اخترؔ

    کل یہی تھے مجھے ہنس ہنس کے رلانے والے

    مآخذ:

    • Book : Mujalla Dastavez (Pg. 295)
    • Author : Aziz Nabeel
    • مطبع : Edarah Dastavez (2010)
    • اشاعت : 2010

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY