لکھنؤ کے شاعر اور ادیب

کل: 415

احتجاج اور جدید سماجی مسائل کو اپنے شعری اظہار میں شامل کرنے والی شاعرہ ۔

لکھنو میں کلاسکی غزل کے ممتاز استاد شاعر

لکھنو کی ممتاز شاعرہ جنھوں نے اپنے اظہار میں نسائی جذبات کو جگہ دی

لکھنؤ کے نامور شاعر، مرزا دبیر کے صاحبزادے، علم عروض پر اپنی کتاب’مقیاس الاشعار‘ کے لیے بھی معروف

معروف ترقی پسند شاعر،رومانی اور انقلابی نظموں کے لیے مشہور،آل انڈیا ریڈیوکے رسالہ آواز کے پہلے مدیر،معروف شاعر اور نغمہ نگار جاوید اختر کے ماموں

نامورادیب ،دانشور،نقاد،محقق اورشاعر، سابق پروفیسر،چیئرمین اوررجسٹرار کراچی یونیورسٹی

اودھ کے نواب

شاعرہ اور فارسی ادب کی اسکالر، لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبہ فارسی کی صدر رہیں

دبستان لکھنو کے متاخرین شاعروں میں ممتاز،مخصوص لکھنوی طرز کے لیے معروف،ایڈیشنل کمشنر،ایجوکیشن منسٹر،ہوم منسٹر اور حکومت کشمیر میں کارگزار وزیر اعظم

اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ کے ممتاز درباری ،آفتاب الدولہ شمس جنگ کے خطاب سے سرفراز شاعر

ممتاز قبل از جدید شاعر،جگر مرادآبادی کے معاصر

شاعر اور مشاعروں کے مقبول ناظم، ’گیتا‘ اور ’گیتانجلی‘ کا اردو میں منظوم ترجمہ بھی کیا

معروف فکشن نویس، شاعر اورناقد؛ لکھنؤ کےثقافتی اورتہذیبی تناظر میں ناول تحریر کیے

الہ آباد ہائی کورٹ کے جج تھے۔ لوک سبھا کے رکن بھی رہے

قومی یکجہتی ،مذہبی ایکتا اور جذبہ آزادی سے سرشار شاعری کے لیے معروف، مجاہدآزادی،نو کلاسکی غزل کے شاعر

داغ دہلوی کے ہم عصر۔ اپنی غزل ’ سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ‘ کے لئے مشہور ہیں

معروف سنسکرت عالم، ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ

اپنے ناٹک ’اندرسبھا‘ کے لیے مشہور، اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ کے ہم عصر

معروف خاتون افسانہ نگار۔ پاکستانی سماج میں خواتین کے گمبھیر مسائل کو موضوع بنانے کے لیے جانی جاتی ہیں۔

معروف شاعر اور نقاد، اپنی تنقیدی کتاب ’دو ادبی اسکول‘ کے لیے بھی جانے جاتے ہیں

معروف افسانہ نگار،ڈرامہ نویس اور نقاد۔اپنے افسانے ’میلہ گھومنی‘ کے لیے مشہور

شاعر اور صحافی، لمبے عرصے تک ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہے، فلموں کے لیے نغمے اور مکالمے بھی لکھے

قبل از جدید شاعر، نظم اور غزل دونوں اصناف میں طبع آزمائی کی؛ بچوں کے لیے بھی بہترین نظمیں لکھیں

ہنومان پرساد شرما عاجز ماتوی ماہر عروض اور عربی و فارسی کے اسکالر ہیں

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے