Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

داغ فراق سے کیا پوچھو ہو آگ لگائی سینے میں

میر تقی میر

داغ فراق سے کیا پوچھو ہو آگ لگائی سینے میں

میر تقی میر

MORE BYمیر تقی میر

    داغ فراق سے کیا پوچھو ہو آگ لگائی سینے میں

    چھاتی سے وہ مہ نہ لگا ٹک آ کر اس بھی مہینے میں

    چاک ہوا دل ٹکڑے جگر ہے لوہو روئے آنکھوں سے

    عشق نے کیا کیا ظلم دکھائے دس دن کے اس جینے میں

    گوندھ کے گویا پتی گل کی وہ ترکیب بنائی ہے

    رنگ بدن کا تب دیکھو جب چولی بھیگے پسینے میں

    اس صورت کا ناز نہ تھا کچھ دب چلتا تھا ہم سے بھی

    جب تک دیکھا ان نے نہ تھا منہ خوب اپنا آئینے میں

    لوگوں میں اسلام کے ہو نہ شہرت اس رسوائی کی

    شیخ کو پھیرا گدھے چڑھا کر مکے اور مدینے میں

    دل نہ ٹٹولیں کاشکے اس کا سردیٔ مہر تو ظاہر ہے

    پاویں اس کو گرم مبادا یار ہمارے کینے میں

    میرؔ نے کیا کیا ضبط کیا ہے شوق میں اشک خونیں کو

    کہیے جو تقصیر ہوئی ہو اپنا لوہو پینے میں

    مأخذ :
    • کتاب : MIRIYAAT - Diwan No- 4, Ghazal No- 1460
    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے