100معروف غزلیں

100معروف ترین غزلوں کا انتخاب: ریختہ کی خصوصی پیش کش


غزل
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
آپ جن کے قریب ہوتے ہیں
آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
اپنی دھن میں رہتا ہوں
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
اشعار مرے یوں تو زمانے کے لیے ہیں
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
انشاؔ جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا
آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو
انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ
آہ کو چاہئے اک عمر اثر ہوتے تک
آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو
اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے
اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا
آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
ترے آنے کا دھوکا سا رہا ہے
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہے
تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
تنگ آ چکے ہیں کشمکش زندگی سے ہم
جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے
جب سے قریب ہو کے چلے زندگی سے ہم
جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نے
جسے عشق کا تیر کاری لگے
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا
خبر تحیر عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی
خیال و خواب ہوئی ہیں محبتیں کیسی
دامن میں آنسوؤں کا ذخیرہ نہ کر ابھی
دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد
دور سے آئے تھے ساقی سن کے مے خانے کو ہم
دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے
دیر لگی آنے میں تم کو شکر ہے پھر بھی آئے تو
دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے
ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
رنگ پیراہن کا خوشبو زلف لہرانے کا نام
رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام
زحال مسکیں مکن تغافل دوراے نیناں بنائے بتیاں
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں
سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سوز غم دے کے مجھے اس نے یہ ارشاد کیا
سینے میں جلن آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہے
شام فراق اب نہ پوچھ آئی اور آ کے ٹل گئی
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا
غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچے
کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہوگی
کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں
کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں
کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی
کسی اور غم میں اتنی خلش نہاں نہیں ہے
کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا
کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا
کوئی امید بر نہیں آتی
گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں
گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے
گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے
گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر
لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے
مرنے کی دعائیں کیوں مانگوں جینے کی تمنا کون کرے
مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہے
میرے ہم نفس میرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے
میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے
نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بھول گیا
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
ہم کو جنوں کیا سکھلاتے ہو ہم تھے پریشاں تم سے زیادہ
ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکے
ہم ہیں متاع کوچہ و بازار کی طرح
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
وقت پیری شباب کی باتیں
وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں
یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے
یہ کیا جگہ ہے دوستو یہ کون سا دیار ہے
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
seek-warrow-warrow-eseek-e1 - 100 of 101 items