عورت

حبیب جالب

عورت

حبیب جالب

MORE BY حبیب جالب

    بازار ہے وہ اب تک جس میں تجھے نچوایا

    دیوار ہے وہ اب تک جس میں تجھے چنوایا

    دیوار کو آ توڑیں بازار کو آ ڈھائیں

    انصاف کی خاطر ہم سڑکوں پہ نکل آئیں

    مجبور کے سر پر ہے شاہی کا وہی سایا

    بازار ہے وہ اب تک جس میں تجھے نچوایا

    تقدیر کے قدموں پر سر رکھ کے پڑے رہنا

    تائید ستم گر ہے چپ رہ کے ستم سہنا

    حق جس نے نہیں چھینا حق اس نے کہاں پایا

    بازار ہے وہ اب تک جس میں تجھے نچوایا

    کٹیا میں ترا پیچھا غربت نے نہیں چھوڑا

    اور محل سرا میں بھی زردار نے دل توڑا

    اف تجھ پہ زمانے نے کیا کیا نہ ستم ڈھایا

    بازار ہے وہ اب تک جس میں تجھے نچوایا

    تو آگ میں اے عورت زندہ بھی جلی برسوں

    سانچے میں ہر اک غم کے چپ چاپ ڈھلی برسوں

    تجھ کو کبھی جلوایا تجھ کو کبھی گڑوایا

    بازار ہے وہ اب تک جس میں تجھے نچوایا

    مآخذ:

    • کتاب : Kulliyat Habeeb Jalib (Pg. 217)

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY